لیگی رکن صوبائی اسمبلی ریپ کے مقدمے میں بری
سرگودھا کی مقامی عدالت نے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی غلام دستگیر لک کو ریپ کے مقدمے میں باعزت بری کردیا۔
دوسری جانب تفتیشی افسر کو 3 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ابوبکر نے رکن صوبائی اسمبلی کی بریت کا فیصلہ سنایا۔
واضح رہے کہ ڈیرہ لک کی رہائشی ایک خاتون نے 2012 میں جھل چکدیاں پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی کہ مہر غلام دستگیر لک نے اپنے 4 ملازمین کی مدد سے ان کے گھر کے باہر اُن کا ریپ کیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران جج نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کو قصوروار ثابت کرنے میں ناکام ہوگیا۔
ساتھ ہی عدالت نے رکن صوبائی اسمبلی کو بری کرتے ہوئے اے ایس آئی آفتاب احمد کو عدالت میں جھوٹا چالان پیش کرنے پر 3 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔
یہ خبر 7 اپریل 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی