پاناما فیصلے پر نظر ثانی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی جانب سے سنائے جانے والے پاناما کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کر دی گئی۔
نظر ثانی کی یہ پٹیشن وطن پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر ظفر اللہ کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار نے پٹیشن میں موقف اپنایا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (کے آئی ٹی) کی تشکیل کا حکم دیا گیا ہے جو کہ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شریف خاندان کافیصلے سے گاڈ فادر کے جملے حذف کرنے کیلئے اپیل پرغور
یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے جی آئی ٹی میں ان ایجنسیوں کو شامل کیا جنہیں نہ تو دیوانی نوعیت کے معاملات کا تجربہ یے نہ ہی مالی معاملات کی تحقیقات کا تجربہ ہے۔
درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی کہ عدالت فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ’دی گاڈ فادر‘ اور دیگر ریمارکس کو حذف کیا جائے‘۔
درخواست گزار نے عدالت عظمیٰ یہ یہ اپیل بھی کی کہ جے آئی ٹی کے بجائے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے احکامات صادر کیے جائیں۔
خیال رہے کہ 20 اپریل کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے پاناما لیکس کے معاملے پر آئینی درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا۔
مزید پڑھیں: حکومت کو 60 روز کی مہلت ملی ہے: تحریک انصاف
پاناما کیس کے تفصیلی فیصلے کے آغاز میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 1969 کے مشہور ناول 'دی گاڈ فادر' کا ذکر کرتے ہوئے لکھا، 'ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے'۔
فیصلے پر ججز کی رائے تقسیم ہے، 3 ججز ایک طرف جبکہ 2 ججز جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد خان نے اختلافی نوٹ لکھا اور وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے اتفاق کیا۔
فیصلے کو حکمراں جماعنت مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں ہی اپنی کامیابی قرار دے رہی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی فیصلے کو مسترد کرچکی ہے۔