سی ای او ایگزیکٹ کو بری کرنے والے جج کو انکوائری کا سامنا
اسلام آباد: جعلی ڈگری اسکینڈل میں ملوث سوفٹ ویئر کمپنی ایگزیکٹ کے مالکان اور ڈائریکٹرز کو بری کرنے والے اسلام آباد سیشن کورٹ کے جج کو کرپشن کے انکشافات کے بعد انکوائری کا سامنا ہے۔
ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق مذکورہ جج کے خلاف قبضہ مافیا کو بےجا فوائد فراہم کرنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
جمعرات (15 جون) کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشنز جج پرویز القادر میمن نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج پرویز القادر میمن کو بتایا کہ عدالت کو علم ہوا ہے کہ 'وہ ایگزیکٹ کیس اور قبضہ مافیا سے جڑے معاملات میں کرپشن کے مرتکب ہوئے ہیں، لہذا ان کی مزید تفتیش کی ضرورت ہے'۔
واضح رہے کہ جج پرویز القادر کو اپنے خلاف لگنے والے ان الزامات کا علم اُس وقت ہوا جب وہ ڈپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (ڈی پی سی) کی جانب سے ترقی نہ ملنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی تیاری میں تھے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشنز جج کی جانب سے ڈی پی سی کے خلاف دائر بیان پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کردیا جس میں جسس پرویز القادر سے ایگزیکٹ مالکان و ڈائریکٹرز کی بریت کے معاملے پر وضاحت طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: 'جعلی ڈگری' کیس میں شعیب شیخ کی ضمانت منظور
پرویز القادر کے وکیل ایڈووکیٹ عرفات چوہدری کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ 'رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس میں درخواست گزار پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں 14 دن میں نوٹس کا تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیوں نہ انہیں نوکری سے برخاست کردیا جائے'۔
رجسٹرار آفس کے حکم نامے کے حوالے سے جج کی درخواست میں کہا گیا کہ یہ شوکاز نوٹس آئین کی چند شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب احمد شیخ کے مقدمے پر 31 اکتوبر 2016 کو سنائے جانے والے فیصلے میں جج پرویز القادر نے یہ جواز پیش کیا تھا کہ 'شواہد کی بنیاد پر ملزم قرار دیئے جانے والے افراد کو اس فیصلے کے ذریعے بری کیا جارہا ہے، یہاں اس بات کی نشاندہی کرنا بہت ضروری ہے کہ بریت کا یہ فیصلہ ملزمان کے تفصیلی ٹرائل کے بعد جاری کیا جارہا ہے اور استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کو ان افراد پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے بنیاد نہیں بنایا جاسکتا'۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشنز جج کی درخواست کے مطابق کیس کے ٹرائل میں استغاثہ کی جانب سے کسی نے جج کے حوالے سے کوئی اعتراضات نہیں اٹھائے تھے بلکہ عدالت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی، جسٹس محسن اختر کیانی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار پر مشتمل ڈی پی سی کی ملاقات اپریل میں ہوئی تھی، تاہم جج پرویز القادر کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ انہیں ترقی دینے کے بجائے دو جونیئر جوڈیشل افسران کو ترقی دی جاچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کمپنی پر دنیا بھر میں جعلی ڈگریاں بیچنے کا الزام
جج پرویز القادر کا کہنا تھا کہ 'میں اس فیصلے کے خلاف محکماتی بیان پیش کرنے ہی والا تھا کہ مجھے رجسٹرار سے وضاحت پیش کرنے کا حکم مل گیا'۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشنز جج پرویز القادر میمن کا کہنا تھا کہ انہیں گذشتہ ماہ 8 مئی کو رجسٹرار آفس سے خط موصول ہوا جس میں ان کو ترقی نہ دینے کی وجہ بیان کی گئی تھی۔
خط کے مطابق ڈی پی سی کی ملاقات میں ایک رکن کی جانب سے ان کے خلاف منفی ریمارکس پاس کیے گئے تھے، ساتھ ہی انہیں خط موصول ہونے کے 5 دن بعد اس کا جواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: شعیب شیخ منی لانڈرنگ کیس میں بری
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں رجسٹرار سے موصول ہونے والی فون کال میں انہیں 24 مئی کو ڈی پی سی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی گئی۔
جج پرویز القادر کا کہنا تھا کہ انہوں نے کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنی بے گناہی کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ ہزاروں مقدمات کی سربراہی کرچکے ہیں جن میں کئی ہائی پروفائل کیسز بھی شامل ہیں مگر آج تک ان کے خلاف کوئی شکایت دائر نہیں ہوئی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کا مزید کہنا تھا کہ وہ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور 28 مئی کو انہیں پمز ہستال کی ایمرجنسی میں لے جایا گیا تھا، اسی لیے انہوں نے 6 جون کو 30 روز کی میڈیکل رخصت کی درخواست کی جسے اب تک منظور نہیں کیا گیا۔
اپنی درخواست میں انہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ وہ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات کو فوری طور پر منسوخ کرے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک رکنی بینچ جج پرویز القادر کی درخواست کی سماعت جمعہ (16 جون) کو کرے گا۔
یہ خبر 16 جون 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔