سائنس و ٹیکنالوجی

طیارے کی کھڑکیاں چوکور کیوں نہیں ہوتیں؟

ہیلی کاپٹرز اور دیگر چھوٹے جیٹ طیاروں کی کھڑکیاں تو مختلف ہوتی ہیں، مگر مسافر بردار طیاروں کی ایک جیسی کیوں ہوتی ہیں۔

ہوائی جہاز کے مقابلے ہیلی کاپٹر یا دیگر جدید جہازوں کی کھڑکیاں مختلف ہوتی ہیں، لیکن تمام مسافر بردار طیاروں کی کھڑکیاں ہمیشہ ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔

ہوائی جہاز دنیا کی مختلف کمپنیاں بناتی ہیں، اس لیے ان کی کوالٹی بھی مختلف ہوتی ہے، مگر زیادہ تر ان میں کئی پرزے، سامان اور ڈیزائن یکساں ہوتے ہیں۔

اسی طرح دنیا کے تمام ہوائی جہازوں کی کھڑکیاں اس وقت گول ہیں، جنہیں دیکھ کر کسی کو بھی تعجب نہیں ہوتا، لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جہاز کی کھڑکیاں گول کے بجائے چوکور کیوں نہیں ہوتیں؟۔

یہ بھی پڑھیں: لینڈنگ کے وقت طیارے کی روشنیاں مدھم کیوں ہوتی ہیں؟
پہلے پہل کھڑکیاں چکور ہی ہوتی تھیں—فوٹو: بی بی سی نیوز

اگر ہوائی جہازوں کے ڈزائن کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ 1950 اور 1954 تک ہوائی جہازوں کی کھڑکیاں گول نہیں بلکہ چوکور ہوتی تھیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ پھرانہیں تبدیل کرکے گول کیوں کیا گیا؟

فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) اور جہاز بنانے والے انجنیئرز اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ چوکور کھڑکیوں کی وجہ سے جہاں جہاز کی لمبائی میں اضافہ ہوتا ہے، وہیں ان کھڑکیوں سے جہاز میں ہوا کا دباؤ برقرار رکھنا مشکل بن جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: طیارے کا عملہ اپنے ہاتھ پیچھے کیوں رکھتا ہے؟
گول کھڑکیاں جہاز کے اندر دباؤ کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں—فائل فوٹو

ایف اے اے کی تحقیق کے مطابق 1953 اور 1954 میں برطانیہ سمیت دیگر ممالک کے طیاروں کے تباہ ہونے کی وجہ بھی یہی تھی کہ ان کی کھڑکیاں چکور تھیں، جس وجہ سے طیاروں میں ہوا کے دباؤ کا توازن برقرار نہیں رہ سکا، اور وہ حادثے کا شکار ہوگئے۔

جہاز بنانے والے انجنیئرز نے 1954 کے آخر تک طیاروں کے ڈزائن تبدیل کرکے ان میں گول کھڑکیاں لگانا شروع کردیں، جن کے استعمال سے جہاں جہاز کی طوالت کم ہوئی، وہیں یہ کھڑکیاں ہوا کا دباؤ برقرار رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: طیارے کی کھڑکیوں میں ننھا سوراخ کیوں ہوتا ہے؟

ایف اے اے کے مطابق چکور کے مقابلے گول کھڑکیاں ہوائی جہاز کے لیے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں، ان کے گول ہونے کی وجہ سے یہ کمزور نہیں ہوتیں، اور جہاز کے اندر ہوا کا توازن برقرار رہتا ہے۔

جہاز کی گول کھڑکیوں میں ایک گول سیاہ لکیر ہوتی ہے، جو جہاز کے اندر ہوا کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

اس وقت تمام کمپنیوں کے طیاروں کی کھڑکیاں گول ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک