پاکستان

سپریم کورٹ جج سے متعلق بیان پر عمران خان کے خلاف درخواست

عمران خان نےایک انٹرویو کےدوران کہاکہ سپریم کورٹ کےایک جج نےانہیں پاناما پیپرکیس اپنے پاس لانے کو کہا تھا، درخواست گزار

اسلام آباد: متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن دائر کردی۔

سینیٹر محمد علی سیف کی جانب سے دائر پٹیشن میں الزام عائد کیا گیا کہ گذشتہ ماہ 27 جولائی کو ایک نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ گذشتہ برس اسلام آباد لاک ڈاؤن کے دوران جب وہ پاناما پیپرز کیس کے حوالے سے نواز شریف اور ان کی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے تو سپریم کورٹ کے ایک جج نے انہیں یہ کیس اپنے پاس لانے کو کہا تھا۔

پٹیشن میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے 30 جولائی کو اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی۔

مزید پڑھیں: عمران خان کا سپریم کورٹ میں منی ٹریل مکمل نہ ہونے کا اعتراف

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ انٹرویو اور جلسے کے دوران عمران خان کے الفاظ عدالت اور جج صاحبان کی ساکھ، سالمیت اور عزت و وقار کو خراب کرنے اور بدنام کرنے کی کوشش تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیس:'ہر سیاسی جماعت نے حساب دینا ہے'

درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان کے اس فعل سے سپریم کورٹ کی سالمیت کو بھی شدید خطرہ لاحق ہوا لہٰذا توہین عدالت کرنے پر عمران خان کے خلاف آئین کے ارٹیکل 204 کے تحت کارروائی کی جائے۔

اُدھر عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں واضح کیا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ سے منسوب ان کے الفاظ کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کو کشش کی جارہی ہے۔

عمران خان کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ان سے کہا تھا کہ سپریم کورٹ اس طرح کے معاملات حل کرنے کا سب سے اعلیٰ پلیٹ فارم ہے۔

بیرسٹر محمد علی سیف نے پٹیشن میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چیئرمین ابصار عالم اور اے آر وائی ڈیجیٹل کے چیئرمین سلمان اقبال کو مدعی بنایا۔


یہ خبر یکم اگست 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی