ایکسرے کرانا صحت کے لیے نقصان دہ؟
اکثر کمر میں درد ہو یا ہڈی کا کوئی مسئلہ تو ڈاکٹر کی جانب سے ایکسرے یا سی ٹی اسکین کا مشورہ دیا جاتاہے مگر کیا یہ صحت کے لیے فائدہ مند ہے؟
تو اس پر عمل کرنا چاہئے؟ یہ جواب آپ کو ہوسکتا ہے حیران کردے۔
درحقیقت اکثر ایکسرے یا سی ٹی اسکین کرانا دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں : معمولی ورزش بھی دل کی صحت کے لیے بہترین
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
یہ بات پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ آئیونائنزیشن ریڈی ایشن (جو کہ ایکسرے اور سی ٹی اسکین میں استعمال ہوتی ہے) کی بہت زیادہ لیول کا جسم پر رہنا خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا کر دل کے افعال کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔
مگر اب نئی تحقیق میں یہ بتایا گیا کہ اس ریڈی ایشن کا کم لیول بھی خون کی شریانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہے اور اس کے اثرات اسکین کے برسوں بعد بھی جسم پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
جرمنی کے Helmholtz Zentrum München نامی تحقیقی مرکز کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس ریڈی ایشن کی کم مقدار بھی دل کی جانب جانے والی شریانوں کی خلیات پر اثرانداز ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دل کی صحت کے لیے بہترین عادت
تحقیق کے مطابق اس کی معمولی مقدار 0.5Gy جو کہ متعدد سی ٹی اسکینز کے برابر ہوتی ہے، خلیات میں مستقل تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے جس سے دل کے افعال متاثر ہوتے ہیں۔
محققین نے کہا ہے کہ اگر ڈاکٹر ایکسرے یا سی ٹی اسکین کا مشورہ دے تو ایمرجنسی یا سنگین صورتحال میں تو اس پر عمل کرنا چاہئے، تاہم اگر وہ ضروری نہ ہو تو معالج سے اس کے متبادل پر تبادلہ خیال کرنا چاہئے۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے انٹرنیشنل جرنل آف ریڈی ایشن بائیولوجی میں شائع ہوئے۔