پاکستانی رینجرز کی ممنون یہ یورپی شخصیت کون؟
’پاکستان ایک پرُامن، خوبصورت اور محبت کرنے والوں کا ملک ہے، باقی امن عامہ کی صورتحال کا سامنا تو کہیں بھی ہو سکتا ہے‘ ، یہ وہ جملہ ہے جو پاکستان کا سفر کرنے والا ہر غیر ملکی کہتا ہوا پایا جاتا، لیکن کوئی خاص شخصیت اگر پاکستان کی شاہراہوں پر عام شہریوں کی طرح نظر آئے تو یہ ایک متاثر کرنے والا عمل بن جاتا ہے۔
جرمنی کے پاکستان میں ایک ماہ قبل تعینات ہونے والے سفیر 64 سالہ مارٹن کوبلر بھی ایسی ہی شخصیت بن کر سامنے آئے ہیں۔
وہ ایک ماہ میں متعدد سرکاری تقاریب کے ساتھ ساتھ کئی عوامی مقامات پر عام لوگوں کی طرح ہی گئے۔
مارٹن کوبلر نہ صرف خود متحرک شخصیت ہیں بلکہ وہ اپنی سرگرمیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو بھی پہنچاتے ہیں۔
پاکستان کے یومِ دفاع پر وہ ہندوستان کے ساتھ سرحد واہگہ پر پرچم کشائی کی تقریب میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ وہاں موجود رینجرز کے اہلکاروں کے ساتھ تصاویر بھی بنوائی۔
جرمنی کے سفیر نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستانی رینجرز کے استقبال کا ممنون ہوں‘۔
اسی طرح وہ لاہور میں بازار میں نکل گئے جبکہ سبزی اور پھلوں کی قیمتیں معلوم کرتے نظر آئے۔
بازار کے دورے کے بعد انہوں نے کیلوں کی خریداری کی اور سوشل میڈیا پر پاکستانی پھلوں کی تعریف کرنا نہ بھولے کہ پاکستانی پھل بہت لذیذ ہیں۔
انہوں نے پاکستان میں ریل گاڑی کے سفر سے بھی لطف اُٹھایا، جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ پاکستان کو جاننا چاہتے ہیں اس لیے جب وہ گوجرانولہ جا رہے تھے تو انہوں نے ریل گاڑی میں سفر کو ترجیح دی جبکہ اس دوران انہیں اردو سیکھنے کے لیے بھی کچھ وقت میسر آسکا۔
عید الضحیٰ پر جرمن سفیر نے اپنی حفاظت پر مامور ایف سی کے اہلکاروں کو بھیڑ بطور تحفہ پیش کی تھی، ساتھ ہی انہوں نے ان اہلکاروں کو ان کے کام پر خراج تحسین پیش کیا تھا۔
انہوں نے یوم آزادی پر پاک فوج کے زیر اہتمام تقریب میں شرکت کی تھی اور پاک فوج کی مہارتوں کے بھر پور معترف نظر آئے۔
وہ بعض حکومتی اقدامات کو بھی سراہتے ہیں، انہوں نے خیبر پختونخوا میں حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے ایک ارب درخت لگانے کے منصوبے کو بھی سراہا، ساتھ ہی یہ امید بھی ظاہر کی کہ یہ اقدام گلوبل وارمنگ کی رفتار کم کرنے میں مددگار ہوگا۔
جرمنی کے سفیر جب کراچی پہنچے تو انہوں نے بہت سی سرکاری ملاقاتیں کیں، لیکن وہ خاص طور پر صدر کے علاقے میں واقع قدیم ایمپریس مارکیٹ بھی گئے۔
ایمپریس مارکیٹ میں انہوں نے کئی دکانوں سے مختلف اشیاء کی قیمتیں معلوم کیں۔
خیال رہے کہ مارٹن کوبلر نے 10 اگست کو صدر ممنون حسین کو اپنی دستاویزات پیش کرکے باقاعدہ اپنے عہدے کا چارج لیا تھا۔
وہ 1983 سے جرمن وزارت خارجہ سے وابستہ ہیں، جبکہ ان کو 2003 میں پہلی بار سفیر تعینات کیا گیا تھا، ان کی پہلی تعینات مصر میں ہوئی تھی، جہاں وہ 2006 تک تعینات رہے۔
بعد ازاں 07-2006 میں ان کو عراق میں جرمنی کا سفیر مقرر کیا گیا، یہ وہ زمانہ تھا جب جنگ سے متاثرہ ملک عراق کے حالات شدید مخدوش تھے اور دسمبر 2006 میں عید کے دن صدام حسین کو پھانسی دی گئی، تاہم مارٹن کوبلر کو 2007 میں وزارت خارجہ میں ڈائریکٹر کلچر اینڈ کمیونیکیشن مقرر کر دیا گیا، جہاں وہ 3 سال یعنی 2010 تک تعینات رہے۔
2010 میں ان کو اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے معاونتی مشن (یوناما) کے لیے خصوصی نمائندے کا نائب مقرر کیا گیا، جہاں وہ 2011 تک تعینات رہے، اس کے بعد وہ اقوام متحدہ کے عراق کے لیے خصوصی مشن (یونامی) کے لیے خصوصی نمائندے مقرر ہوئے، جہاں 2013 تک انہوں نے خدمات انجام دیں، 2013 سے 2015 تک وہ جنگ زدہ ملک کانگو کے لیے اقوام متحدہ کے اسٹیبلائزیشن مشن (مونوسکو) کے خصوصی نمائندے مقرر رہے، 2015 کے بعد سے مارٹن کوبلزشورش زدہ ملک لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے سپورٹ مشن (یو این ایس ایم آئی ایل) کے خصوصی نمائندے مقرر تھے۔