شاداب خان نے اپنے اسپیل کی پہلی ہی گیند پر وکٹ لے کر سری لنکا کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا— فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کی جانب سے حسن علی ایک مرتبہ پھر سب باؤلرز پر بازی لے گئے اور تین وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ شاداب خان اور عماد نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو گزشتہ میچ میں سنچری بنانے والے امام الحق صرف دو رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
بابر اعظم اور فخر زمان نے اسکور کو 37 تک پہنچایا ہی تھا کہ مستقل مشکلات سے دوچار فخر ایک غیر ضروری شاٹ کھیلتے ہوئے لگاتار دوسرے میچ میں اسٹمپ ہو کر پویلین لوٹ گئے جبکہ حفیظ نو رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پاکستانی ٹیم صرف 58 رنز پر تین کوٹوں سے محروم ہو چکی تھی۔
اس مرحلے پر ٹیم کے سب سے تجربہ کار بلے باز شعیب ملک کی وکٹ پر آمد ہوئی جنہوں نے بابر کے ساتھ عمدہ شراکت قائم کرتے ہوئے مزید کسی نقصان کے ٹیم کو ہدف تک رسائی دلا کر سیریز میں 4-0 کی برتری دلا دی۔
دونوں کھلاڑیوں نے چوتھی وکٹ کیلئے ناقابل شکست 119 رنز کی شراکت قائم کر کے 39 اوورز میں ہی ٹیم کی فتح کو یقینی بنا دیا، شعیب نے تین چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے 69 جبکہ بابر نے بھی پانچ چوکوں کی مدد سے 69 رنز بنائے۔
بابر اعظم کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
اس سے قبل چوتھے ون ڈے کیلئے قومی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئیں ہیں، رومان رئیس کی جگہ عثمان خان شنواری اور فہیم اشرف کی جگہ عماد وسیم کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
آج کے میچ میں عثمان خان اور سدیرا سمارا وکراما بالترتیب پاکستان اور سری لنکا کی طرف سے ڈیبیو کر رہے ہیں۔
میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔
پاکستان: سرفراز احمد (کپتان)، امام الحق، فخر زمان، بابر اعظم، محمد حفیظ، شعیب ملک، عماد وسیم، شاداب خان، حسن علی، عثمان خان شنواری اور جنید خان۔
سری لنکا: اپل تھرنگا (کپتان)، نروشن ڈکویلا، سدیرا سمارا وکرمہ، لہیرو تھریمانے، دنیش چندیمل، ملندا سریوردنا، تھیسارا پریرا، سورنگا لکمل، اکیلا دھاننجیا، ایس پراسانا اور لہیرو گماگے۔