شائع نومبر 21, 2017 04:47pm

گاڈ فادر تو مَر گیا، مگر اب سِسیلین مافیا کا کیا بنے گا؟

آصف شاہد

1998ء میں توتورینا کے باس لوچیانو نے مقامی مافیا اور قبیلے کے سربراہ میکیلے کو قتل کردیا، اِس کے بعد لوچیانو اور توتورینا نے چُن چُن کر میکیلے کے وفاداروں کو قتل کرنا شروع کردیا۔ توتورینا 1963ء میں ایک بار پھر پکڑا گیا اور 1969ء میں عدم ثبوت پر رہا ہوگیا۔ اِسی سال ایک بار پھر مافیا میں قتلِ عام کا سلسلہ شروع ہوا اور توتورینا مافیا باس بن گیا۔ توتورینا اور دیگر کئی خاندانوں نے مل کر پولیس کی گاڑی اور وردیاں چرائیں اور ایک دن اچانک کارلیونے قبیلے کے باس میکیلے کوبرا پر دھاوا بول کر اُسے ہلاک کردیا۔ اُس کے قتل کے بعد سِسیلیین مافیا میں شامل کارلیونے قبیلے نے توتورینا کو باس مان لیا۔

کارلیونے کے ڈان کی حیثیت سے توتورینا نے 1978ء اور 1982ء کے درمیان دیگر مافیا باسز کا قتل کرایا اور مافیا میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی۔ مافیا باسز کے سفاکانہ قتل پر توتورینا کو ’بیسٹ‘ یعنی حیوان کا لقب دیا گیا۔ توتورینا کی ایماء پر مزید 2 مافیا باسز کے قتل پر دوسری مافیا وار شروع ہوئی۔ اِس جنگ میں درجنوں مافیا کارندے مارے گئے، مارے جانے والے مافیا کارندوں کے بھائیوں اور رشتہ داروں کو بھی چُن چُن کر ہلاک کیا گیا، اور بالآخر اِس جنگ کو روکنے کے لیے توتورینا اور اُس کے سابق باس اور ساتھی لوچیانو نے دیگر 10 مافیا باسز کو صلح کے بہانے بلاکر قتل کر ڈالا اور یوں پورے علاقے میں توتورینا کی حکمرانی قائم ہوگئی۔

مافیا پر مکمل حکمرانی حاصل کرنے کے بعد توتورینا نے ریاست کے خلاف ایک نئی جنگ چھیڑی، کیونکہ ریاست نے بھی مافیا کی اندرونی جنگ سے فائدہ اُٹھا کر مافیا کارندوں کا گھیرا تنگ کردیا تھا۔ لگ بھگ 400 مافیا کارندے پکڑے جاچکے تھے۔ توتورینا نے تفتیش کاروں اور ججوں کو ڈرانے کے لیے دو ججوں فالکن اور بورسلینو کو 1992ء میں بم دھماکوں میں ہلاک کروادیا۔ اٹلی بھر میں ٹرینوں کے اندر، گِرجا گھروں اور عجائب گھروں کے باہر بھی دھماکے کرائے گئے۔

اِن حملوں کے نتیجے میں اٹلی کی حکومت نے جھکنے کی بجائے امریکا سے مدد لی اور مافیا کے خاتمے کے لیے اسپیشل فورس بنائی۔ اِس کے ساتھ ساتھ فورنزک کی سہولیات بہتر کی گئیں اور سرتوڑ کوششوں اور مافیا کے اندر سے باغیوں کی مدد نے حکومت کو بڑی کامیابی دلائی۔ کئی سالوں سے پولیس کو چکمہ دینے والا توتورینا 1993ء میں پکڑا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر توتورینا پر ہاتھ ہلکا رکھے ہوئے تھی، کیونکہ کئی سیاستدانوں کو بھی توتورینا کی سرپرستی حاصل تھی، اِس لیے یہ مفرور رہا، مگر عوام کے دباؤ پر آخرکار پولیس کو گرفتار کرنا ہی پڑا۔

ہائی سیکیورٹی جیل اور توتورینا کے باہر کی دنیا سے رابطے منقطع کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود مافیا توتورینا کے زیرِ اثر رہا اور وہ کسی نہ کسی طرح مافیا سے رابطے میں رہا۔ توتورینا کا اصول تھا کہ طاقت ہی ہر قسم کے حالات میں فیصلہ کُن ہوتی ہے، اور اُس کی شادی بھی اِسی اصول کے تحت ہوئی، کیونکہ توتورینا جس لڑکی سے شادی کا خواہشمند تھا، خاندان کو اُس پر اعتراض تھا، مگر توتورینا نے صاف کہہ دیا، اگر اِس لڑکی سے اُس کی شادی نہیں ہوسکتی تو پھر کچھ لوگوں کو موت کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

توتورینا ایک سفاک شخص تھا لیکن کسی بھی وقت اور کہیں بھی آنسو بہانے پر بھی قادر تھا۔ اُس نے مافیا میں اپنے جتنے بھی کارندے اور ساتھی قتل کروائے سب کی آخری رسومات میں شریک ہوکر آنسو بھی بہائے۔ اُس کی سفاکی کی بدترین مثال ایک مافیا کارندے کے بیٹے کی ہلاکت ہے۔ مافیا کے خلاف مخبری کرنے والے کارندے کے 13 سالہ بیٹے کو توتورینا نے تیزاب میں ڈال کر مارنے کا حکم دیا، اور اُس لڑکے کا تمام جسم تیزاب میں گھل کر ختم ہوگیا۔

مافیا کے معاملات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ توتورینا کی سفاکی ہی مافیا کو کمزور کرنے کا باعث بنی۔ سِسلی اور اٹلی بھر میں قتلِ عام سے توتورینا نے عام انسان کی نظروں سے اوجھل مافیا کو سب کے سامنے طشتِ ازبام کیا، یہی غلطی اُس کی مافیا کوسا نوسترا کی تباہی کا سبب بن گئی۔

توتورینا کی موت کے بعد اب یہ سوال بھی اُٹھایا جا رہا ہے کہ مافیا ’کوسا نوسترا‘ کیا اب باقی رہ پائے گی یا ختم ہوجائے گی؟

توتورینا اور اُس کے دستِ راست پرووینزانو کی موت کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ میسینا تینرو مافیا باس ہوگا جو 1983ء سے انتہائی مطلوب ترین افراد کی فہرست میں ہے۔

20 سال سے مافیا کے مقدمات کے سرکاری وکیل امبروگیو کرتوسیو کا کہنا ہے کہ قتلِ عام اور دھماکوں کا رواج تو اب ماضی کا قصہ ہیں، لیکن کوسا نوسترا میں ایک طرح سے جینیاتی تبدیلیاں آئی ہیں اور اب کوسا نوسترا کا سیاسی اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا ہے۔ سیاسی رابطوں اور معاہدوں کی وجہ سے معاشرے کے ہر طبقے میں مافیا کا اثر موجود ہے۔ مافیا اگرچہ اب کم عسکری اور کم خونی ہے لیکن زیادہ مؤثر ہے۔

اٹلی کے وزیرِ داخلہ آندریا اورلیندو کا کہنا ہے کہ توتورینا کی موت کے باوجود خطرے کی سطح کم نہیں ہوئی۔ توتورینا اپنی موت کے ساتھ اپنے سیاسی رابطوں، معاہدوں اور مافیا کے اندرونی اور بیرونی راز بھی ساتھ لے گیا ہے۔

توتورینا کی موت سے مافیا کے حریف گروہوں میں ایک خونی جنگ کا بھی خطرہ ہے۔ اگرچہ اُس نے اپنے حریفوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا، لیکن اُس کی موت کے بعد مافیا امور پر دسترس رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’جلاوطن‘ مافیا باس اور کارندے لوٹ سکتے ہیں اور 1980ء کی دہائی جیسی ایک بڑی مافیا جنگ پھر شروع ہوسکتی ہے۔

مافیا کس قدر مؤثر اور طاقت کی حامل ہے اور مافیا وار کیوں شروع ہوسکتی ہے، اِس کی وجہ مافیا کو حاصل آمدنی ہے۔ 2014ء میں کوسا نوسترا کے حریف گروہ اندرنگیتا کی آمدن کا تخمینہ 44 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اگر ڈوشے بینک اور میکڈونلڈز کی کُل آمدن کو ملا لیا جائے تب بھی یہ تخمینہ اِس سے زیادہ بنتا ہے۔ اندرنگیتا بھی بین الاقوامی کرائم سنڈیکیٹ کا درجہ رکھتا ہے لیکن کسی دور میں بھی یہ کوسا نوسترا کی حکمرانی کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، مگر اب یہ کوسا نوسترا کا بڑا حریف ہے۔

اندرنگیتا کو 2014ء میں منشیات اسمگلنگ سے 24.2 ارب یورو اور کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کے غیر قانونی دھندے سے 19.6 ارب یورو آمدن ہوئی۔ اِسی طرح بھتّے سے 2.9، کرپشن اور ہیر پھیر سے 2.4 اور جوئے کے اڈوں سے 1.3 ارب یورو آمدن ہوئی۔ جسم فروشی، اسلحہ اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اب مافیا کے لیے چھوٹے دھندے ہیں، کیونکہ اِن سب دھندوں سے مافیا کو کُل ملا کر ایک ارب یورو آمدن ہوئی۔ مافیا کی یہ آمدن اٹلی کے 3.5 فیصد جی ڈی پی کے برابر ہے۔ اندرنگیتا مافیا کے 400 اہم ترین کارندے 30 ملکوں میں کام کر رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں اِس کے کارندوں کی تعداد کا اندازہ 6 ہزار لگایا گیا ہے۔

مافیاز کی پُراسرار دنیا کے بارے میں کوئی بھی حتمی بات نہیں کی جاسکتی تاہم اب تازہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اٹلی کی معیشت بیٹھ جانے کے بعد اب کوسا نوسترا کے کارندے دھندے کی تلاش میں جرمنی اور یورپ کے دیگر ملکوں کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ مافیا البانیا سے لائی گئی منشیات یورپ میں پھیلا رہی ہے، کوکین کی منشیات پر اندرنگیتا کا کنٹرول ہے جبکہ کوسا نوسترا حشیش کو کنٹرول کر رہی ہے۔

مافیا کے سب سے بڑے گاڈ فادر کی موت ہوچکی لیکن یہ مافیا ختم نہیں ہوں گے، جس کا یقین اٹلی کی پولیس کو بھی ہے اور حریف مافیاز کو بھی۔ کوسا نوسترا بنیادی طور پر قبائلی انداز میں چلائی جانے والی مافیا ہے، جہاں نسل در نسل ایک ہی دھندا ہوتا ہے۔ گاڈ فادر جب تک مَر نہیں جاتا گاڈ فادر ہی رہتا ہے، توتورینا کی موت کے بعد ’ریٹائرمنٹ‘ کی زندگی گزارنے والے مافیا ڈان جن کی عمر 80 اور 90 سے بھی تجاوز کر چکی ہیں، پھر سے میدان میں ہیں اور نئی نسل کو دھندے کی اونچ نیچ سکھانے میں لگے ہیں۔

Read Comments