اپ ڈیٹ اپريل 11, 2018 12:55pm

لوڈ شیڈنگ کے باعث کراچی میں جنریٹر کی فروخت میں اضافہ

عامر شفاعت خان

کراچی: گزشتہ کچھ عرصے کے دوران لوڈ شیڈنگ میں کمی کے باعث کراچی میں جنریٹر کی فروخت کم ہوگئی تھی لیکن کے الیکٹرک (کے ای) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) کے درمیان نئے تنازع کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ میں دوبارہ اضافہ ہوگیا ہے جس سے جنریٹر کی فروخت میں دوبارہ تیزی آگئی۔

برآمد کیے گئے جنریٹرز کی قیمتوں میں، روپے کی قدر میں کمی اور برآمد کی گئی اشیاء پر لگنے والی 10 فیصد ڈیوٹی کی وجہ سے 30 فیصد تک اضافہ ہوگیا۔

کے الیکٹرک کے لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں دوبارہ بجلی کی بندش کے آغاز سے جنریٹر کی خریداری میں 200 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

مزید پڑھیں: لوڈ شیڈنگ سے بچانے والے سولر یو پی ایس سسٹم کی قیمت کیا ہے؟

جنریٹر فروخت کرنے والی کمپنی سکندر اینڈ کو کے مالک سکندر شہزادہ کے مطابق وہ ایک دن میں 40 سے 50 یونٹ فروخت کر رہے ہیں جبکہ 5 دن قبل تک 8 سے 10 یونٹ فروخت ہورہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ میں کمی کے باعث ایک کے وی اے سے 10 کے وی اے کے جنریٹرز کی بر آمد میں کمی آئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اب صورت حال تبدیل ہوگئی ہے اور رہائشی افراد کی جانب سے میٹرک اور او لیول کے امتحانات قریب ہونے کی وجہ سے جنریٹر کی مانگ بڑھ گئی ہے جبکہ کئی افراد رمضان کے آغاز سے قبل بجلی پیدا کرنے کی مصنوعات خرید رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر خریدار 1 کے وی اے سے 10 کے وی اے کے جنریٹرز مانگ رہے ہیں جن کی قیمتوں میں پہلے ہی 10 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔

پاکستان کے محکمہ شماریات کے مطابق ملک میں جنریٹر کی برآمدات کا بل 19 فیصد کم ہوکر 1.77 ارب ڈالر ہوا جو گزشتہ سال اس عرصے میں 2.18 ارب ڈالر تھا۔

یہ بھی پڑھیں: لوڈ شیڈنگ میں اضافہ: وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم سے مدد کی اپیل کردی

سکندر شہزادہ نے بتایا کہ اونچی عمارتوں کے منصوبوں کے لیے بھاری اسٹینڈ بائی جنریٹرز کی بر آمد جاری ہے کیونکہ زیادہ تر منصوبے اختتامی مراحل میں ہیں اور کچھ مکمل ہو چکے ہیں۔

ملک کی سب سے بڑی جنریٹر در آمد کرنے والی کمپنی پاکستان مشینری مرچنٹ گروپ کے صدر خرم سہگل کا کہنا تھا کہ صارفین حکومت کے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوے سے پر امید تھے کیونکہ مختلف منصوبوں سے 10 ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی لیکن کراچی میں بجلی کا بڑا بحران سامنے آیا جبکہ ایسا ہی بحران سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی جاری ہے۔


یہ خبر ڈان اخبار میں 11 اپریل 2018 کو شائع ہوئی

Read Comments