'اسد درانی کی طرح نواز شریف سے بھی سوالات ہونے چاہیے'
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ جس طرح فوج نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی کو طلب کیا، اسی طرح پارلیمان کو بھی سابق وزیراعظم نواز شریف سے ممبئی حملوں سے متعلق حالیہ بیان کی وضاحت طلب کرنی چاہیے تھی۔
ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز آئی' میں گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان کا کہنا تھا کہ جس کسی سے بھی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، اُس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ 'میں سمجھتا ہوں کہ چاہے کوئی فوجی ہو یا عام سیاستدان، قومی سلامتی کے منافی بیانات دینے کا کسی کو اختیار نہیں اور اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اسے ہر صورتحال میں قانون کی گرفت میں لایا جائے'۔
ان کا کہنا تھا کہ فوج نے اپنے سابق آفیسر اسد درانی کو طلب کرکے ایک بات ثابت کردی کہ اس ادارے کے اصول بہت ہی واضح ہیں، مگر سوال یہ پیدا ہوتا کہ ایسے اصول پھر سیاسی محاذ پر کیوں نہیں ہوتے اور آخر کیوں پارلیمنٹ کو اتنا بے بس تصور کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: کتاب پر پوزیشن واضح کرنے کیلئے اسد درانی کو طلب کرلیا،آئی ایس پی آر
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اسد درانی کی اس کتاب کا اس وقت میں شائع ہونا کئی سوالات کو بھی جنم دیتا ہے، لیکن یہ معاملے فوج دیکھ رہی ہے تو لہذا وہ ہی فیصلہ کرے گی۔
واضح رہے کہ چند روز قبل لیفٹننٹ جنرل (ر) اسد درانی اور بھارت کے ریسرچ اینالسز ونگز (را) کے سابق سربراہ اے ایس دولت کی جانب سے مشترکہ طور پر تحریر کردہ کتاب ’دی اسپائی کرونیکلز‘ کی اشاعت سامنے آئی تھی، جس میں کئی متنازع موضوعات پر بات کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کی لکھی گئی کتاب کی اشاعت
اس کتاب کے سامنے آنے کے بعد پاک فوج کی جانب سے بیان سامنے آیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسد درانی کو ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر پوزیشن واضح کرنا ہوگی، کیونکہ اس کا اطلاق تمام حاضر اور ریٹائرڈ اہلکاروں پر ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ اسد درانی کی کتاب میں جو موضوعات زیر بحث آئے ہیں ان میں کارگل آپریشن، ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیلز کا اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا آپریشن، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، حافظ سعید، کشمیر، برہان وانی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔