بھارت میں ریپ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے پر پورن سائٹس پر مقدمہ
بھارت کے شہر نئی دہلی کی پولیس نے ملک کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی شکایت پر ریپ اور گینگ ریپ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے پر متعدد پورن ویب سائٹس کے خلاف 5 مقدمات درج کرلیے۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ مذکورہ ویب سائٹس کی جانب سے کچھ ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کی گئی تھیں جس میں کم عمر بھارتی لڑکیوں کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
خیال رہے کہ مذکورہ ویڈیوز کو آپ لوڈ کرنے والے آئی پی ایڈریسز تک پہنچے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ مذکورہ ویب سائٹس کو حکومت نے بلاک کردیا ہے۔
مزید پڑھیں: نیپال: بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کی روک تھام کیلئے فحش سائٹس پر پابندی
رپورٹ کے مطابق بھارت میں آئی ٹی کی وزارت کے سینئر عہدیدار نے سائبر پورٹل آف نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے تحت پولیس کے سائبر سیل سے رابطہ کیا۔
پولیس کے مطابق وہ اس گھناؤنے اقدام میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے کوششیں کررہے ہیں جبکہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جن آئی پیز سے مذکورہ ویڈیوز اپ لوڈ کی گئیں ہیں وہ جعلی ہیں۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں واضح ہوا ہے کہ یہ ویب سائٹس بھارت سے ہی چلائی جارہی تھیں۔
یاد رہے کہ 2015 میں بھارت کی وزارت اطلاعات اور آئی ٹی کے محکمہ ٹیلی کمیونیکیشنز اینڈ دی سینٹر نے 8 سو ویب سائٹس کی فہرست مرتب کی تھی اور ان کے مواد میں پورنو گرافی اور دیگر قابل اعتراض مواد ہونے کی وجہ سے انٹر نیٹ سروس کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں کو تنبیہ کی تھی کہ وہ انہیں سروس مہیا نہ کریں۔
یاد رہے کہ بھارت میں کم عمر لڑکیوں کے ریپ کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے جبکہ حکام ان کی روک تھام میں ناکام نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: پورن ویڈیوز کے عادی 14 سالہ لڑکے کا بڑی بہن کے ساتھ ریپ
بھارت بھر میں ایک عرصے سے لڑکیوں کو اغوا کرنے کے بعد ریپ کے واقعات تواتر سے رونما ہو رہے ہیں اور عالمی برادری سمیت بھارت میں بھی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
4 اکتوبر 2018 کو نیپال کی حکومت نے ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے ملک میں پورن سائٹس کو بند کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق نیپالی حکومت کے اس اقدام کو سماجی تنظیموں کے رضاکاروں نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مضحکہ خیز اور خیر مؤثر قرار دیا جبکہ حکومت کا یہ اقدام رواں سال جولائی میں ایک 13 سالہ لڑکی کے ریپ اور قتل کے بعد رد عمل کے طور پر سامنے آیا، جس کے خلاف قومی سطح پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔