پاکستان

پاکستان تحریک انصاف کے تمام پارٹی ونگز تحلیل

نئے پارٹی آئین کے تحت تنظیم نو کے لیے چیئرمین سمیت 6 افراد کے علاوہ پی ٹی آئی کے تمام عہدے ختم کردیے گئے، رپورٹ

اسلام آباد: حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے حال ہی میں منظور کیے گئے نئے پارٹی آئین کے تحت تنظیمِ نو کے لیے اپنی تمام تنظیمیں، اسٹرکچرز، ونگز اور ذیلی تنظیمیں تحلیل کردیں۔

پارٹی کی تنظیم نو کے لیے چیئرمین عمران خان، نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی اور دیگر 5 افراد کے علاوہ پارٹی کے تمام عہدے تحلیل کردیے گئے۔

پارٹی کے سینٹرل میڈیا ڈپارٹمنٹ کے اعلان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف موجودہ پارٹی ڈھانچے کو تحلیل کردیا ہے اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: جمہوریت بچانے کا شور مچا کر اپنی چوری بچانا چاہتے ہیں، عمران خان

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ' چیف آرگنائزر سے مشاورت کے بعد صوبہ پنجاب، سندھ خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور دارالحکومت اسلام آباد میں تمام سطح پر موجود پارٹی کی تمام تنظیموں، ونگز اور ذیلی تنظیموں کو تحلیل کردیا گیا جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا'۔

اس میں کہا گیا کہ پارٹی چیئرمین عمران خان، نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی، چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی، سیکریٹری جنرل ارشد داد، سیکریٹری فنانس سردار اظہر طارق خان، انفارمیشن سیکریٹری عمر سرفراز چیمہ اور سیکریٹری آفس برائے بین الاقوامی امور ڈاکٹر عبداللہ ریار کے علاوہ دیگر افسران پارٹی عہدہ نہیں سنبھالیں گے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے کہا کہ پارٹی کے تمام جزو کو تحلیل کرنے کا فیصلہ یکم مئی کو پارٹی کے یومِ تاسیس پر نئے پارٹی آئین کے اعلان کے تحت کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے حامی کا عمران خان کو مشورہ

ترجمان کا کہنا تھا کہ پارٹی انتخابات کے انعقاد تک نئے عہدیداران کو آئندہ چند روز میں عبوری مدت کے لیے نامزد کیا جائے گا۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات سال 2021 میں منعقد ہونے کے امکانات تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے آئین کے تحت پارٹی ساخت میں یکسانیت لائے گئی جو صوبائی ، ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ چیپٹرز پر مشتمل ہوگی۔

ترجمان نے بتایا کہ ماضی میں پارٹی صدر کے پاس فیصلہ لینے کا اختیار تھا لیکن نئے نظام کے تحت پالیسی ترتیب دینے اور فیصلہ کرنے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔


یہ خبر 3 جون 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی