مگر اس وقت بڑی کوفت ہوتی ہے جب آپ انڈا پکانے کے لیے توڑیں اور اس کے چھلکے کے کچھ ذرات بھی زردی اور سفیدی کے ساتھ برتن یا فرائی پین میں چلے جاتے ہیں جو بعد میں منہ میں جاکر ذائقہ خراب کرتے ہیں۔
مگر اس کی بڑی وجہ انڈا توڑنے کا انداز ہوتا ہے۔
درحقیقت اکثر افراد انڈا توڑنے میں غلطی کرتے ہیں اور وہ اس مقصد کے لیے برتن یا کسی بھی چیز کے دھار والے کونے سے انڈے کے چھلکے کو ٹکرا کر اسے توڑتے ہیں، مگر اس طریقہ کار سے چھلکے کے چھوٹے ٹکڑے انڈے کے اندر موجود سیال میں گرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح انڈے کو براہ راستے برتن یا پین کے اوپر توڑنے سے بھی چھلکے کے ٹکڑے برتن یا پین میں جانے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
بنیادی طور پر جب کسی دھار والے کونے سے انڈے کے چھلکے کو توڑا جاتا ہے تو وہ اس پتلی اندرونی جھلی کو بھی توڑ دیتا ہے جو چھلکے کے ٹکڑوں کو اندر جانے سے روکنے کے لیے جال کی طرح کام کرتا ہے۔
تو متعدد ماہر شیفس کا کہنا ہے کہ انڈا توڑنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ کسی سپاٹ اور ٹھوس جگہ پر اسے توڑا جائے، جس سے اندرونی جھلی برقرار رہتی ہے، ویڈیو نیچے دیکھ سکتے ہیں۔
اسی طرح 2 انڈوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر توڑنا بھی ایک اچھا متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔
ویسے طریقہ چاہے جو بھی ہو اگر آپ کو اکثر انڈے کے چھلکے ناشتے میں منہ میں جانے کی شکایت ہوتی ہے تو بہتر ہے کہ اسے توڑنے کا طریقہ بدل دیں۔
ویسے کیا آپ کو معلوم ہے کہ گندے انڈے کو آپ توڑنے سے پہلے بھی پکڑ سکتے ہیں؟
جی ہاں واقعی چند آسان طریقوں سے خراب انڈے کو پکڑنا ممکن ہوتا ہے جو درج ذیل ہیں۔
پانی سے مدد لیں
ایک انڈا کسی برتن مین رکھیں اور اسے پانی سے بھردیں، اگر انڈہ پانی میں تیرنے لگے یا سیدھا کھڑا ہوجائے تو بہتر ہے کہ اسے استعمال نہ کیا جائے جبکہ تہہ میں اپنی سائیڈ میں لیٹ جانے والا انڈہ استعمال کے لیے محفوظ ہوتا ہے۔
ناک بھی گندا انڈا پکڑ سکتی ہے
جب انڈا خراب ہوجاتا ہے تو اس میں سخت قسم کی سلفر بو خارج ہونے لگتی ہے اور یہ بو انڈا ٹوٹنے سے پہلے ہی پکڑی جاسکتی ہے اور اس کے چھلکے کو سونگھنے پر بو محسوس ہو تو یہ نشانی ہے کہ انڈا خراب ہوچکا ہے۔
فلیش لائٹ ٹیسٹ
اندھیرے کمرے میں انڈا لے جائیں اور اس پر فلیش لائٹ کی روشنی ڈالیں، ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم ہو یا نہ ہو مگر انڈے کے چھلکے مسام دار ہوتے ہیں، ایک انڈے سے روشنی سے پار نہیں ہوپاتی مگر ایسا انڈا جو کافی دن پرانا ہو اس میں روشنی آرپار ہونے کی شرح کافی نمایاں ہوتی ہے، یہ طریقہ پانی والے ٹیسٹ جتنا آسان نہیں مگر دلچسپ تجربہ ضرور ثابت ہوتا ہے، درحقیقت آپ موم بتی سے بھی ایسا کرسکتے ہیں۔