صحت

دوپہر کو قیلولے سے رات کی نیند متاثر ہونے سے کیسے بچائیں؟

کئی بار دوپہر کو سونا رات کی نیند اڑانے کا باعث بھی بن سکتا ہے خصوصاً اگر کچھ چیزوں کا خیال نہ رکھا جائے۔

زندگی کی مصروفیات میں بہت کم افراد ایسے ہوں گے جو دن میں کچھ منٹ کے قیلولے کے ساتھ رات کی اچھی نیند کا مزہ لیتے ہوں گے۔

مگر کئی بار دوپہر کو سونا رات کی نیند اڑانے کا باعث بھی بن سکتا ہے خصوصاً اگر کچھ چیزوں کا خیال نہ رکھا جائے۔

یقیناً دوپہر کو سونا اچھی عادت ہے اور سنت نبوی بھی، مگر اعتدال ہر چیز کے لیے ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ چند آسان ٹرکس کو اپنا کر آپ دوپہر کے قیلولے کے ساتھ رات کی اچھی نیند کو بھی یقینی بناسکتے ہیں۔

دوپہر کو غنودگی کی وجہ کیا ہوتی ہے؟

بیشتر افراد کو دوپہر کے وقت جسمانی توانائی اور توجہ کی صلاحیت میں قدرتی کمی کا سامنا ہوتا ہے اور یہ حیاتیاتی گھڑی کا حصہ ہے۔

یہ جسمانی گھڑی نیند کو ریگولیٹ کرتی ہے اور اس کی وجہ سے ہارمونز اور نیوروٹرانسمیٹرز خصوصاً کورٹیسول اور ایڈی نوسین کی سطح میں اتار چڑھاﺅ ہوتا ہے۔

کورٹیسول آپ کو بیدار اور چوکنا رہنے میں مدد دیتا ہے اور صبح اٹھنے کے بعد عموماً جسم میں اس کی سطح زیادہ ہوتی ہے جو دن کے ساتھ گھٹنے لگتی ہے، تاہم جسم مخصوص سرگرمیوں جیسے ورزش وغیرہ سے اسے دوبارہ بناتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دوپہر کو ورزش کرنا جسم کو متحرک رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

اس کے مقابلے میں ایڈی نوسین غنودگی کا احساس دلانے والا ہارمون ہے اور دن چڑھنے پر اس کی سطح بڑھنے لگتی ہے اور اس کے نتیجے میں دوپہر یا سہ پہر کے وقت غنودگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔

جسمانی گھڑی کے علاوہ مختلف عناصر جیسے رات کی نیند کا معیار، غذا، کیفین (چائے یا کافی کا استعمال)، کمرے کا درجہ حرارت، اسکرین کا وقت اور جسمانی سرگرمیاں بھی دوپہر کی اس تھکاوٹ یا غنودگی پر اثر انداز ہوتی ہیں، نیند کے مسائل جیسے خراٹے اور بے خوابی بھی دوپہر کی اس غنودگی کا باعث ہوسکتے ہیں۔

قیلولے کے فوائد

ویسے اس کے فوائد بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ بیشتر افراد کو ان کا علم ہے مگر پھر بھی یہ عادت جسمانی توانائی اور چوکسی بحال کرتی ہے، توجہ کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے، مزاج خوشگوار ہوتا ہے اور رات کی کم نیند کی تلافی بھی ہوسکتی ہے۔

تاہم کچھ افراد کو دوپہر میں نیند کے نتیجے میں رات کو سونے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے، اگلی صبح اٹھنا مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ رات کو دیر سے سوتے ہیں یا قیلولے کے بعد دوپہر کو طبعیت میں عجیب سے سستی طاری ہوجاتی ہے۔

کن افراد کو قیلولہ نہیں کرنا چاہیے؟

ویسے تو ہر ایک اس کا مزہ لے سکتا ہے مگر طبی ماہرین کے مطابق جن افراد کو بے خوابی کی شکایت رہتی ہے، انہیں اس سے گریز کرنا چاہیے، یعنی جو لوگ رات کو جاگتے رہتے ہیں، ان کے لیے دوپہر میں سونا اس مسئلے کو مزید بڑھا سکتا ہے، تاہم اگر آپ کو ایسا کوئی مسئلہ نہیں تو دوپہر کو بغیر کسی خوف کے سوجائیں، بس ان باتوں کا خیال رکھیں۔

دوپہر میں جلد سوجائیں

جتنی جلد قیلولہ کریں گے (غنودگی کا احساس ہوتے ہی)، اتنا بہتر ہوگا، دوپہر کو زیادہ دیر تک سونے کی طرح شام کے قریب قیلولہ کرنا بھی نیند کے چکر کو متاثر اور رات کو جاگنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ ویسے تو ہر ایک کی جسمانی گھڑی الک ہوتی ہے مگر بیشتر افراد کو دوپہر 1 سے 3 بجے کے درمیان غنودگی کا سامنا ہوتا ہے، اگر اس وقت میں آرام کی جگہ دستیاب ہو تو پہلی فرصت میں موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

دورانیہ مختصر رکھیں

مایو کلینک کے مطابق جو لوگ 10 سے 20 منٹ کا قیلولہ کرتے ہیں وہ ذہنی بہتری میں مدد دے سکتا ہے اور 30 منٹ تک سونا کارکردگی کو متاثر کرسکتا ہے۔ اگر آپ کو نیند کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو ایک گھنٹے یا اس سے زائد وقت سونا جسمانی گھڑی کے نظام کو کافی متاثر کرسکتا ہے جبکہ دوپر کو دیر تک سونے کے بعد اٹھنے پر مزاج خوشگوار اور جسم توانائی سے بھرپور نہیں ہوتا بلکہ ذہن پر دھند کی چھائی ہوتی ہے اور چڑچڑا پن طاری ہوسکتا ہے کیونکہ اس وقت جسم مزید گہری نیند کا مطالبہ کررہا ہوتا ہے۔

قیلولے سے چند منٹ پہلے اسکرین کا استعمال ترک کردیں

رات کو اسمارٹ فونز کے استعمال کا اثر نیند پر منفی انداز سے مرتب ہوتا ہے اور دوپہر میں بھی یہ ڈیوائسز قیلولے کے فوائد کو کم کرسکتی ہیں، ہوسکتا ہے کہ آپ کا کام ایسا ہو کہ دوپہر میں کمپیوٹر کے سامنے سے اٹھنا مشکل ہو، تاہم اگر دوپہر کی نیند کا وقت نکال رہے ہیں تو اسکرین سے کچھ منٹ پہلے دور ہوجائیں اور کچھ چہل قدمی کرکے آرام کریں۔

غنودگی کو کیفین سے دور نہ کریں

ہر ایک تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے اور روزمرہ کے کاموں کا تناﺅ اور ذہنی دباﺅ مسائل کا باعث بن سکتا ہے، مگر اس کا حل چائے یا کافی ایک اضافی کپ نہیں، کیونکہ یہ اضافی کپ رات کی نیند کو متاثر کرسکتا ہے، چاہے یہ بستر پر جانے سے 6 گھنٹے قبل ہی کیوں نہ پیا گیا ہو، سونے سے 3 گھنٹے قبل کافی پینا نیند میں مدد دینے والے ہارمون میلاٹونین بننے کا عمل ایک لگ بھگ ایک گھنٹے التوا کا شکار کردیتا ہے، کچھ منٹ کا قیلولہ غنودگی اور تھکاوٹ میں کمی لانے کا بہترین نسخہ ہے، جس سے توجہ کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے جبکہ ذہنی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

ہارٹ اٹیک اور فالج سے بچانے میں مددگار سنت نبوی

دوپہر کی نیند کا دورانیہ کتنا ہونا چاہیے؟

اس سنت نبوی کے یہ فائدے معلوم ہیں؟