صحت

ہر موسم کے اس پھل کو روزانہ کیوں کھانا چاہیے؟

سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسے کھانا لگ بھگ ہر ایک کو ہی پسند ہوتا ہے اور کسی بھی وقت اسے کھالیا جاتا ہے۔

کیلے دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے پھلوں میں سے ایک ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں اوسطاً ہر سال 18 ملین ٹن کیلوں کی کھپت ہوتی ہے۔

یہ پھل پوٹاشیم اور پیسٹین (فائبر کی ایک قسم) سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے ذریعے جسم کو میگنیشیم، وٹامن سی اور بی سکس بھی مل جاتے ہیں۔

اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسے کھانا لگ بھگ ہر ایک کو ہی پسند ہوتا ہے اور کسی بھی وقت اسے کھالیا جاتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر طبی سائنس نے اس پھل کو کھانے کی عادت کے درج ذیل فوائد کو ثابت کیا ہے۔

انتہائی اہم اجزا سے بھرپور پھل

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ کیلے دنیا کے مقبول ترین پھلوں میں سے ایک ہے، جس کی رنگت، حجم اور ساخت دنیا کے بیشتر حصوں میں مختلف ہوسکتی ہے۔

مگر سب عام قسم Cavendish ہے جو آپ کو بازار میں عام ملتی ہے، جو پیلے رنگ کا ہوتا ہے تاہم کچا ہونے پر اس کی رنگت سبز ہوتی ہے۔

کیلوں میں مناسب مقدار میں فائبر موجود ہوتا ہے جبکہ متعدد اینٹی آکسائیڈنٹس بھی اس کے ذریعے جسم کا حصہ بنتے ہیں، ایک عام کیلے سے جسم کو پوٹاشیم کی روزانہ درکار مقدار کا 9 فیصد حصہ، وٹامن بی سکس کی روزانہ درکار مقدار کا 33 فیصد حصہ، وٹامن سی کی روزانہ درکار مقدار کا 11 فیصد حصہ، میگنیشم کی روزانہ درکار مقدار کا 8 فیصد حصہ، کاپر کی روزانہ درکار مقدار کا 10 فیصد حصہ، مینگینیز کی روزانہ درکار مقدار کا 14 فیصد حصہ، 24 گرام کاربوہائیڈریٹس، 3.1 گرام فائبر، 1.3 گرام پروٹین اور 0.4 چکنائی ملتی ہے۔

ایک کیلے میں عموماً 105 کیلوریز ہوتی ہیں جن میں سے بھی بیشتر حصہ پانی اور کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہوتا ہے۔

بلڈ شوگر کو معتدل رکھنے میں مدد دے

کیلے میں فائبر کی ایک قسم پیکٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو گودے کو اسفنج جیسی ساخت فراہم کرتا ہے۔

کچے کیلوں میں نشاستہ موجود ہوتا ہے جو حل ہونے والے فائبر کی طرح کام کرتا ہے، پیکٹین اور یہ نشاستہ بلڈ شوگر لیول کو کھانے کے بعد معتدل رکھنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔

گلیسمیک انڈیکس یا جی آئی (جو کسی غذا سے بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافے کا عندیہ دینے والی 0 سے 100 تک کی فہرست ہے) میں بھی کیلوں کو درمیان میں رکھا گیا۔

کچے کیلوں کو 30 جبکہ پکے ہوئے پھل کو 0 نمبر دیا گیا ہے اور تمام کیلوں کی اوسط قدر 51 ہے۔

آسان الفاظ میں کیلوں سے صحت مند افراد میں بلڈ شوگر لیول بہت تیزی سے اوپر نہیں جاتا، تاہم ذیابطیس ٹائپ 2 کے مریضوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوسکتا اور انہیں بہت زیادہ پکے ہوئے کیلے زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے جبکہ بلڈ شوگر کی مانیٹرنگ بھی کرنی چاہیے۔

نظام ہاضمہ کو بہتر بنائے

غذائی فائبر صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند جز ہے جس میں نظام ہاضمہ بہتر ہونا بھی شامل ہے۔

ایک درمیانے حجم کے کیلے میں 3 گرام فائبر ہوتا ہے جس سے یہ پھل فائبر کے حصول کے لیے اچھا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔

کیلوں میں پیکٹین اور مزاحمت کرنے والے نشاستہ کی شکل میں 2 اقسام کے فائبر ہوتے ہیں، تاہم نشاستہ والی قسم کچے کیلوں میں پائی جاتی ہے۔

فائبر کی یہ قسم بڑی آنت میں پہنچ جاتی ہے اور وہاں معدے میں موجود صحت کے لیے مفید بیکٹریا کی غذا ثابت ہوتی ہے۔

جسمانی وزن میں کمی بھی ممکن

اس حوالے سے کسی طبی تحقیق میں براہ راست تو کیلوں اور جسمانی وزن میں کمی کے تعلق کی آزمائش نہیں کی گئی، تاہم یہ پھل ایسی متعدد خصوصیات کا حامل ہے جو اسے جسمانی وزن میں کمی لانے والی غذاؤں میں سے ایک ثابت کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر اس میں کیلوریز کی مقدار کافی کم ہوتی ہے، یعنی ایک کیلے میں اوسطاً سو سے کچھ زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ غذائی اجزا بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

پھلوں اور سبزیوں سے زیادہ فائبر کو جزوبدن بنانا بھی جسمانی وزن میں کمی لانے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح کچے کیلوں میں موجود فائبر پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے اور کھانے کی اشتہا کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

دل کی صحت کے لیے بھی مفید

پوٹاشیم ایسا غذا جز ہے جو دل کی اچھی صحت کے لیے بہت ضروری ہے خصوصاً بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے۔

تاہم بہت افراد ہی اپنی غذا سے مناسب مقدار میں پوٹاشیم کو حاصل کرپاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کیلے اس کے حصول کے لیے بہترین ذریعہ ہیں، جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ ایک کیلے سے کتنی مقدار میں یہ جز جسم کو ملتا ہے۔

پوٹاشیم سے بھرپور غذا بلڈ پریشر کی سطح کم رکھنے میں مدد دیتی ہے جبکہ ایسے افراد جو پوٹاشیم کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں امراض قلب کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں 27 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

کیلوں میں میگنیشم کی بھی مناسب مقدار ہوتی ہے اور یہ غذائی جز بھی دل کی صحت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔

طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹس

کیلوں میں متعدد اقسام کے اینٹی آکسائیڈنٹس بشمول ڈوپامائن اور catechins موجود ہوتے ہیں، جو صحت کو متعدد فوائد پہنچااتے ہیں جیسے امراض قلب بتدریج صحت کو متاثر کرنے والی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مددگار

کیلوں میں موجود نشاستہ حل ہونے والے فائبر کی طرح کام کرتا ہے جو عام طور پر کچے کیلوں میں زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں پکے ہوئے کیلوں میں فائبر اس کی قسم کی مقدار کم ہوتی ہے مگر پھر بھی جسم کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔

دونوں اقسام کے فائبر اشتہا کم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں جبکہ کھانے کے بعد پیٹ بھرے رہنے کا احساس زیادہ وقت تک برقرار رہتا ہے۔

انسولین کی حساسیت میں ممکنہ بہتری

انسولین کی مزاحمت متعدد سنگین امراض بشمول ذیابطیس کا خطرہ بڑھانے والے ایک بڑا عنصر ہے۔

متعدد تحقیقی رپورٹس کے مطابق مزاحمت کرنے والے نشاستہ کی روزانہ 15 سے 30 گرام مقدار کو جزوبدن بنانا 4 ہفتوں میں انسولین کی حساسیت کو 33 سے 50 فیصد تک بہتر بناسکتا ہے۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کچے کیلوں میں اس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور یہ انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔

اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ ابھی تک طبی ماہرین ان اثرات کی وجہ کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے ہیں۔

گردوں کو صحت مند بنائے

پوٹاشیم نہ صرف بلڈ پریشر کنٹرول کے لیے اہم جز ہے بلکہ یہ گردوں کے صحت مند افعال میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

پوٹاشیم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہونے کے باعث کیلے گردوں کو صحت مند رکھنے میں بھی مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

خواتین پر 13 سال تک جاری رہنے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایک ہفتے میں 2 سے 3 بار کیلے کھانے سے گردوں کے امراض کا خطرہ 33 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

دیگر تحقیقی رپورٹس کے مطابق ایک ہفتے میں 4 سے 6 بار اس پھل کو کھانا گردوں کے امراض کا خطرہ لگ بھگ 50 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔

ورزش کے لیے بھی مفید

کیلوں کو اکثر کھلاڑیوں کے لیے مثالی غذا قرار دیا جاتا ہے جس کی وجہ اس میں موجود غذائی اجزا اور آسانی سے ہضم ہونے والے کاربوہائیڈریٹس ہیں۔

اس پھل کو کھانے سے ورزش سے پٹھوں میں آنے والی اکڑن اور سوجن کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

وہ وقت جب کیلے کھانے سے گریز کرنا بہتر

ایک فرد ایک دن میں کتنے کیلے کھا سکتا ہے؟

کیلے اور دودھ کا اکھٹا استعمال نقصان دہ یا فائدہ مند؟