وہ وقت جب کیلے کھانے سے گریز کرنا بہتر

20 جون 2019

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

کیلے دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے پھلوں میں سے ایک ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں اوسطاً ہر سال 18 ملین ٹن کیلوں کی کھپت ہوتی ہے۔

یہ پھل پوٹاشیم اور پیسٹین (فائبر کی ایک قسم) سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے ذریعے جسم کو میگنیشیم، وٹامن سی اور بی سکس بھی مل جاتے ہیں۔

اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسے کھانا لگ بھگ ہر ایک کو ہی پسند ہوتا ہے اور کسی بھی وقت اسے کھالیا جاتا ہے۔

مگر دن کا ایک وقت ایسا ہوتا ہے جب اس پھل سے دوری ہی بہتر ہوتی ہے اور وہ ہے صبح ناشتے کا وقت۔

جی ہاں کیلوں کو ناشتے میں کھانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اس پھل میں پوٹاشیم، میگنیشم اور فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے مگر یہ صبح کی پہلی غذا کے لیے کچھ زیادہ اچھا نہیں کیونکہ اس میں مٹھاس اور کافی حد تک تیزابیت بھی ہوتی ہے۔

اس پھل کو کھانے کے بعد ہوسکتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے جسمانی توانائی میں اضافہ ہوجائے مگر بہت جلد تھکاوٹ طاری ہوسکتی ہے جبکہ بھوک بھی لگ سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ناشتے میں اس پھل کو کھانے کے بعد بہت جلد کچھ اور کھانے کی خواہش پیدا ہوجاتی ہے اور ایسا امکان ہے کہ بعد ازاں بہت زیادہ کھالیا جائے۔

صبح خالی پیٹ کیلے کھانے سے انسولین کی سطح بڑھ سکتی ہے اور اگر اس کو عادت بنالیا جائے تو وقت کے ساتھ ہائی بلڈ شوگر کا عارضہ بھی لاحق ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مٹھاس کو کسی بھی شکل میں استعمال کیا جائے تو اس سے جسم میں تیزابیت پیدا ہوتی ہے اور نظام ہاضمہ اس سے بھر جاتا ہے، تاہم ناشتے میں کیلے دلیہ یا کسی اور غذا کے ساتھ کھالینا اس نقصان سے پہنچا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔