خاتون کے لباس پر اعتراض: اسپیکر قومی اسمبلی کا نوٹس، تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کردی
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اقبال آفریدی کی جانب سے قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں خاتون افسر کے لباس سے متعلق نازبیا ریمارکس دینے پر نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی۔
ڈان نیوز کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کی جانب سے خاتون افسر کے لباس پر اعتراض کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور نازیبا ریمارکس کا نوٹس لے لیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں خاتون افسر کے لباس سے متعلق تبصرہ کرنے سے متعلق تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی۔
اسپیکر ایاز صادق نے حقائق جاننے کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی ہے، وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، جب کہ نوید قمر، سید امین الحق، ملک محمد عامر ڈوگر اور مولانا عبدالغفور حیدری بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی پارلیمانی پارٹیوں کی 5 خواتین ممبران کو شامل کرنے کی مجاز ہوگی، تحقیقاتی کمیٹی 15 دن میں اسپیکر کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے ایم این اے و رکن کمیٹی اقبال آفریدی نے کے الیکٹرک کی نمائندہ خاتون کے لباس پر اعتراض عائد کیا تھا۔
اقبال آفریدی نے کہا تھا کہ کے الیکٹرک کی خاتون جس لباس میں اجلاس میں شریک تھیں وہ قابل اعتراض ہے، اس طرح کے لباس میں اجلاس میں شرکت نہیں ہونی چاہیے۔
اقبال آفریدی نے لباس پر اعتراض کمیٹی سے خاتون کے واپس جانے کے بعد ان کی عدم موجودگی میں اٹھایا تھا جب کہ چیئرمین کمیٹی نے اقبال آفریدی کے معاملے پر معذرت کر لی تھی۔
بعد ازاں، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاتارڑ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران خاتون کے لباس پر اعتراض کرنے پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کی پارٹی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔