پاکستان

سندھ حکومت نے صوبے میں کرپشن کو صنعت کا درجہ دےدیا، علی خورشیدی

دنیا میں ڈویلپمنٹ ہوتی ہے تو کرپشن ہوتی ہے لیکن سندھ میں کرپشن کرنا ہو تو ڈویلپمنٹ ہوتی ہے، قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی

سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے صوبے میں کرپشن کو صنعت کا درجہ دے دیا ہے، دنیا میں ڈویلپمنٹ ہوتی ہے تو کرپشن ہوتی ہے لیکن سندھ میں کرپشن کرنا ہو تو ڈویلپمنٹ ہوتی ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق سندھ حکومت کے وزیر توانائی ناصر حسین شاہ کے بیان پر ردِ عمل میں علی خورشیدی نے کہا ہر سال قومی اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے کرپشن پر جاری رپورٹس میں علی بابا چالیس چوروں کی ساری کہانیاں لکھی ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے وزراء اور وڈیرے ایم کیو ایم کے خلاف سوچ سمجھ کر بیان دیں، سندھ حکومت کی کرپشن کے گواہ صوبے کا تباہ حال انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم کا نظام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ناصر حسین شاہ بتائیں سندھ حکومت نے 15 سال میں کراچی کے کتنے نوجوانوں کو نوکریاں دیں، سندھ حکومت پاکستان کے بجٹ میں 70 فیصد حصہ ڈالنے والے کراچی پر سالانہ کتنا پیسہ خرچ کرتی ہے؟

سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ کراچی کے ہسپتال، سڑکیں، پارکس اور اسکول ورلڈ بینک کے قرضوں سے بنتے ہیں جسے کراچی کے شہریوں نے ادا کرنا ہے۔

واضح رہے کہ صوبائی ناصر حسین شاہ نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت سالانہ 30 ارب روپے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی)، قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی)، قومی ادارہ برائے صحت اطفال (این آئی سی ایچ) پر خرچ کرتی ہے۔

اس سے قبل، ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی نے کا کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جناح ہسپتال پر سندھ حکومت کا ایک پیسہ خرچ نہیں ہورہا اور یہ ڈونرز کے پیسوں پر چل رہا ہے۔