پاکستان

کرم میں امدادی قافلے پر فائرنگ کرنے والے 11 دہشتگرد گرفتار

دہشتگردوں کو کرم کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا، امدادی قافلے پر حملے میں ملوث مزید شدت پسندوں کی تلاش جاری ہے، پولیس

خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کے علاقے اوچت میں امدادی قافلے پر فائرنگ میں ملوث 11دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

ڈان نیوز کے مطابق پولیس حکام نے بتایا ہے کہ امدادی قافلے پر فائرنگ کرنے والے دہشت گردوں کو کرم کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا ہے جب کہ واردات میں ملوث مزید شدت پسندوں کی تلاش جاری ہے۔

اس سے قبل، صوبائی حکومت نے کرم میں فائرنگ کرنے والے دہشت گردوں کے سروں کی قیمت مقرر کی تھی، مبینہ دہشتگردوں کا تعلق بگن، وتیزئی اور ہارون میلہ کے علاقے سے ہے۔

کرم میں 14 دہشت گردوں کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی ہے، سب سے زیادہ دہشت گرد کاظم کے سر کی قیمت 3 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق دہشت گرد امجد اللہ کے سر کی قیمت 2 کروڑ، مکرم خان کے سر کی قیمت ڈیڑھ کروڑ، درویش وزیر کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ مطلوب دہشت گرد منصور، اسامہ، آدم ساز، یاسین، وزیر محمود کے سر کی قیمت 30، 30 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ دہشت گرد سیف اللہ، اسامہ عرف شفیق، نور اللہ کے سر کی قیمت ایک، ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح عثمان کے سر کی قیمت 80 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 17 فروری کو خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں شرپسندوں کے حملوں کے بعد امدادی قافلے کو بچانے کی کوششوں میں 5 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

تشدد کی تازہ لہر نے علاقے میں موجود غیر یقینی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے، کیونکہ گزشتہ ماہ ہی کئی ماہ تک جاری رہنے والے تنازع کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس میں تقریباً 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اپر کرم کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا واحد زمینی راستہ تھل۔پاراچنار روڈ ان مسلسل حملوں کی وجہ سے ٹریفک کے لیے بند ہے۔

رواں سال کے اوائل میں کرم میں متحارب دھڑوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کے بعد سے علاقے کو بھاری سیکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ قافلوں کے ذریعے امداد فراہم کی جا رہی تھی۔

اس واقعے کے بعد گزشتہ روز حکومت خیبرپختونخوا نے لوئرکرم میں فائرنگ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی اور 4 گاؤں اوچت، مندوری، داد کمر اور بگن کو خالی کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔

ڈان نیوز کے مطابق ضلع کرم کی صورتحال پر اعلی سطح کا اجلاس پشاور میں منعقد ہوا تھا۔

حکومت خیبر پختونخوا نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے گاؤں خالی کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ان دیہات کو خالی کروا کے سرچ آپریشنز کیے جائیں گے۔

حکومت نے کرم میں ریاست کے خلاف واقعات میں ملوث افراد کو ’فورتھ شیڈول‘ میں ڈالنے اور کرم میں بدامنی میں ملوث افراد اور ماسٹر مائنڈز کے سروں کی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔