ارمغان نے سائبرکرائم کا بین الاقوامی نیٹ ورک بنا رکھا تھا، عبوری چالان
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے تفتیشی افسر (آئی او) نے ایک عدالتی مجسٹریٹ کو آگاہ کیا ہے کہ کریڈٹ کارڈ ڈیٹا چوری کیس کے مرکزی ملزم ارمغان قریشی نے مصطفیٰ عامر کے قتل کے بعد لاہور اور اسلام آباد میں 2 جائیدادیں کرائے پر حاصل کیں تاکہ وہاں کال سینٹرز قائم کیے جا سکیں۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق کیس کے تفتیشی افسر امیر علی کھوسو نے یہ معلومات ایک عبوری چالان کے ذریعے عدالتی مجسٹریٹ (جنوبی) کے روبرو جمع کروائیں، جس میں بتایا گیا کہ حتمی رپورٹ جمع کروانے کے لیے مزید وقت درکار ہے کیونکہ بائنانس اور کوائن بیس سے ریکارڈز تاحال موصول نہیں ہوئے، انہوں نے مزید کہا کہ کچھ دستاویزی اور ڈیجیٹل شواہد بھی جمع کیے جانے باقی ہیں۔
کال سینٹرز کے حوالے سے تفتیشی افسر نے بتایا کہ دورانِ تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ مصطفیٰ عامر کے قتل کے بعد اس نے اپنے آپریشنز منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، اس نے مبینہ طور پر لاہور میں پی آئی اے سوسائٹی کے قریب ایک جگہ کال سینٹر کے لیے 3 لاکھ روپے ماہانہ کرائے پر حاصل کی، جس کی رقم پیشگی ادا کی گئی۔
اسلام آباد میں اس نے مبینہ طور پر داتا خان گنج بخش روڈ پر ایک عمارت حاصل کی، جس کے لیے کل 19 لاکھ روپے ایڈوانس میں ادا کیے گئے، یہ رقم نقد اور ایک ملازم کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے ادا کی گئی، جو کرایہ دار کے نام پر استعمال ہو رہا تھا۔
غیر قانونی کال سینٹر کے طریقہ واردات سے متعلق رپورٹ میں این سی سی آئی اے نے وضاحت کی کہ ملزم نے مختلف ملازمت فراہم کرنے والی ویب سائٹس کے ذریعے ایجنٹس بھرتی کیے، جو جعلی کالر آئی ڈیز استعمال کرتے ہوئے خود کو معروف اداروں کا نمائندہ ظاہر کرتے اور متاثرین سے حساس ذاتی معلومات حاصل کرتے۔
یہ ڈیٹا بعد ازاں ایک سافٹ ویئر میں محفوظ کیا جاتا، جو ارمغان کے زیرِ کنٹرول تھا، رپورٹ کے مطابق بعد ازاں ملزم ان معلومات کو استعمال کرتے ہوئے مختلف ادائیگی کے گیٹ ویز جیسےاتھورائز ڈاٹ نیٹ، اسٹرائپ اور ماوریک پیمنٹ وغیرہ وغیرہ کے ذریعے غیر مجاز مالی لین دین کرتا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تمام پیمنٹ گیٹ ویز امریکا میں رجسٹرڈ ایل ایل سی اکاؤنٹس سے منسلک تھے، جو ارمغان، اس کے والد اور والد کے دوستوں کے نام پر بینک آف امریکا اور ویلز فارگو جیسے بینکوں میں کھولے گئے تھے، ٹرانزیکشن کے بعد رقم کو کرپٹو کرنسی، بشمول بٹ کوائن میں تبدیل کر کے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کیا جاتا۔
رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزم نے ایک بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورک کی منصوبہ بندی اور نگرانی کی، جو مالیاتی فراڈ، الیکٹرانک چوری، جعل سازی، غیر مجاز مالیاتی منتقلی، شناخت کے غلط استعمال، کرپٹو کرنسی منی لانڈرنگ اور بین الاقوامی دھوکہ دہی میں ملوث ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ڈیجیٹل والٹس، ڈارک ویب پر ٹرانزیکشنز اور شناختی فراڈ کا استعمال منصوبہ بند اور منظم مجرمانہ سرگرمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
این سی سی آئی اے نے دعویٰ کیا کہ ڈیجیٹل فرانزک تجزیے سے ثابت ہوا ہے کہ مختلف ڈیجیٹل آلات سے قابلِ جرم شواہد ملے ہیں، جن میں وائس اوور آئی پی (وی او آئی پی) سافٹ ویئر، وی پی این (وی پی این) سافٹ ویئر، امریکی پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس (یو ایس پی ٹی او) پورٹلز تک رسائی، اور رجسٹرڈ ٹریڈ مارک سیریلز کے اندراج کی معلومات شامل ہیں۔
ارمغان کے خلاف مقدمہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا)2016 کی دفعات 3 (ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی)، 4 (ڈیٹا کی غیر مجاز نقل یا ترسیل)، 13 (الیکٹرانک جعل سازی)، 14 (جعلی الیکٹرانک ریکارڈ)، 16 (شناختی معلومات کا غیر مجاز استعمال)، 24 (سائبر اسٹاکنگ) اور 26 (اسپوفنگ) کے تحت درج کیا گیا ہے، جو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 468 (دھوکہ دہی کی نیت سے جعل سازی)، 471 (جعلی دستاویز کو اصلی ظاہر کرنا) اور 109 (اعانت جرم) کے ساتھ ملا کر درج کیا گیا ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ارمغان کے خلاف مصطفیٰ عامر کے قتل کا مقدمہ بھی زیرِ التوا ہے۔
پولیس پہلے ہی اس کے خلاف عبوری چالان جمع کرا چکی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مصطفیٰ کو مبینہ طور پر ارمغان اور اس کے ساتھی شیراز عرف شاویز بخاری نے 6 جنوری کو کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے ایک گھر میں قتل کیا، ملزمان نے مبینہ طور پر لاش مصطفیٰ کی اپنی گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر بلوچستان کے علاقے حب میں لے جا کر جلا دی۔
چالان میں کہا گیا ہے کہ رینجرز سے حاصل کردہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دونوں ملزمان کو مقتول کی گاڑی میں کراچی سے حب جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک اور ویڈیو میں انہیں سوزوکی پک اپ میں کراچی واپس آتے دکھایا گیا ہے۔