دنیا

غزہ: فلسطین فٹبال ٹیم کے سابق کپتان اسرائیلی حملے میں شہید

سلیمان العبید کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ دیگر افراد کے ساتھ خوراک کے حصول کیلئے کوشاں تھا، سابق فاروڈر نے اپنے طویل کیریئر کے دوران فلسطین کیلئے 100 سے زائد گول کیے۔

اسرائیل کی جانب سے غزہ کے نہتے شہریوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، حالیہ حملے میں فلسطین کی قومی فٹبال ٹیم کے سابق کپتان سلیمان احمد زید العبیدکو شہید کر دیا گیا ۔

ایران کے ’پریس ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق سلیمان العبید کو اُس وقت شہید کیا گیا جب وہ جنوبی غزہ میں امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن (پی ایف اے) نے ایک بیان میں کہا کہ سلیمان العبید فلسطین کی قومی ٹیم کے سابق کھلاڑی تھے۔

پی ایف اے کے مطابق اسرائیل غزہ پر جارحیت کے دوران فلسطینی کھلاڑیوں کو براہِ راست نشانہ بنا رہا ہے، صہیونی فوج کے حملوں میں کھیلوں سے وابستہ 662 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

سلیمان العبید ایک باصلاحیت فارورڈ اور وِنگر تھے، جو 2000 کی دہائی کے اوائل میں نمایاں ہوئے اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک فلسطینی شائقین کے دلوں کی دھڑکن بنے رہے۔

انہوں نے فلسطین کے لیے اپنا پہلا بین الاقوامی گول 2010 ویسٹ ایشین فٹبال فیڈریشن چیمپئن شپ کے دوران یمن کے خلاف کیا، فلسطین فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق سلیمان العبید نے اپنے طویل کیریئر کے دوران 100 سے زائد گول اسکور کیے، جو انہیں فلسطینی فٹبال کا ایک درخشاں ستارہ بناتے ہیں۔

انہوں نے 2012 اے ایف سی چیلنج کپ کوالیفائرز اور 2014 ورلڈ کپ کوالیفائرز میں فلسطین کی نیشنل فٹبال ٹیم کی نمائندگی بھی کی، سلیمان العبید نے 2016، 2017 اور 2018 میں لگاتار 3 سال غزہ پریمیئر لیگ گولڈن بوٹ ایوارڈ بھی جیتا۔

وہ اسرائیلی جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطین کی نیشنل فٹبال ٹیم کے تیسرے کھلاڑی ہیں، ان سے پہلے موئین المغربی اور محمد براکات کو بالترتیب جنوری اور مارچ 2024 میں شہید کیا گیا تھا۔