پاکستان

خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی ممکن ہے، وفاقی وزیر امیر مقام کا دعویٰ

مناسب وقت پر صوبائی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کریں گے، 53 ارکان پر مشتمل ایک مضبوط اپوزیشن اتحاد خیبر پختونخوا میں حالات بدل سکتا ہے، صوابی میں گفتگو

وفاقی وزیر برائے کشمیر امور، سیفران و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کی تبدیلی ممکن ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر نے صوابی میں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری دلدار خان کے گھر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مناسب وقت پر صوبائی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کریں گے، 53 ارکان پر مشتمل ایک مضبوط اپوزیشن اتحاد خیبر پختونخوا میں حالات بدل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم ان لوگوں کو جوابدہ ٹھہرائے گی جنہوں نے یوم استحصال کشمیر کو ’یوم استحصال عمران‘ میں تبدل کر دیا۔

امیر مقام کی دلدار خان کے گھر آمد ان کے بھائی کے انتقال پر فاتحہ خوانی کے لیے ہوئی، جو چند روز قبل انتقال کر گئے تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپوزیشن جماعتوں سے بات چیت کرنا چاہتی تھی، لیکن بدقسمتی سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ایسے تمام مواقع مسترد کر دیے اور تشدد کی سیاست کو اپنایا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا 9 مئی کے مقدمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوم استحصال کشمیر پر پی ٹی آئی کا احتجاج مناسب نہیں تھا، قوم نے ان کو مسترد کر دیا، 5 اگست کا احتجاج مکمل ناکامی ثابت ہوا۔

امیر مقام نے کہا کہ اب انہوں نے 14 اگست کو احتجاج کی کال دی ہے، جس کا مقصد ملک میں بدامنی پیدا کرنا ہے تاکہ بھارت اور اسرائیل کو خوش کیا جا سکے۔