پاکستان

ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں اسمگلنگ کیخلاف حکومت کے ٹھوس اقدامات، افغانستان سے درآمدات میں نمایاں کمی

مالی سال 23-2022 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم 7 ارب 10 کروڑ ڈالرز سے کم ہو کر مالی سال 25-2024 میں صرف ایک ارب 3 کروڑ ڈالرز پر آگیا ہے۔ ذرائع

وفاقی حکومت کی جانب سے ٹرانزٹ ٹریڈکی آڑ میں اسمگلنگ کےخلاف ٹھوس اقدامات کے نتیجے میں گذشتہ 2 مالی سالوں کے دوران افغانستان کی پاکستان سے ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت درآمدات میں 6 ارب 7 کروڑ ڈالرز کی نمایاں گراوٹ آئی ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق پاکستان کی جانب سے اسمگلنگ کیخلاف بھرپور کارروائیوں کے بعد افغانستان کی پاکستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، مالی سال 23-2022 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حجم 7 ارب 10 کروڑ ڈالرز سے کم ہو کر مالی سال 25-2024 میں صرف ایک ارب 3 کروڑ ڈالرز پر آگیا ہے۔

حکومتی ذرائع کےمطابق پاکستان نےٹرانزٹ ٹریڈکی آڑ میں اسمگلنگ پرقابو پانےاور ٹرانزٹ ٹریڈ کاغلط استعمال روکنےکے لیے موثراقدامات کیے جس کے نتائج حالیہ 2 برس کے دوران برآمد ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ مالی سال 25-2024 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں ایک ارب 86 کروڑ ڈالرز اور سال 24-2023 میں 4 ارب 21 کروڑ ڈالرز کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

مالی سال 24-2023 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈکا حجم 2 ارب 89 کروڑ ڈالرز تھا اور سال 23-2022 میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ 7 ارب 10 کروڑ ڈالرز تھی۔

واضح رہےکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک سے اسمگلنگ کےجڑ سےخاتمے کے پختہ عزم کا اظہارکرتے ہوئے اسمگلنگ کےخلاف ملک گیر مہم تیز کرنےکی ہدایت کی تھی۔