پاکستان

سیلاب زدگان کیلئے وزرا کی تنخواہ عطیہ کرنے کا معاملہ، نوٹیفکیشن میں تضاد نے ابہام پیدا کردیا

وفاقی کابینہ اراکین کی تنخواہیں سیلاب زدگان کے لیے عطیہ کرنے کے معاملے پر مختلف سرکاری نوٹیفکیشنز میں تضاد ظاہر ہونے کے بعد ابہام پیدا ہو گیا۔

وزیراعظم کے دفتر اور مالیات ڈویژن کے نوٹی فکیشنز میں اختلاف کے بعد، وفاقی کابینہ کے اراکین کی تنخواہیں سیلاب زدگان کے لیے عطیہ کرنے کے معاملے پر ابہام پیدا ہو گیا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ اراکین کی تنخواہیں سیلاب زدگان کے لیے عطیہ کرنے کے معاملے پر مختلف سرکاری نوٹی فکیشنز میں تضاد ظاہر ہونے کے بعد ابہام پیدا ہو گیا۔

مالیات ڈویژن نے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا جس میں کابینہ اراکین سے ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنے کے ہدایت نامے کو واپس لینے کی تجویز دی گئی۔

تاہم، اسی ڈویژن کے ایک اور نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ گریڈ 19 سے 22 کے سینئر بیوروکریٹس کی ایک دن کی تنخواہ سیلاب زدگان کو دی جائے گی۔

دریں اثنا، دفترِ وزیرِاعظم کے حکام نے وضاحت کی کہ کابینہ اراکین کی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لیا گیا ہے اور ان کی تنخواہیں کابینہ ڈویژن کی طرف سے جاری ایک اور نوٹی فکیشن کے ذریعے سیلاب متاثرین کو دی جائیں گی۔

کابینہ ڈویژن کے نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ وزیرِاعظم نے ہدایت کی ہے کہ تمام وفاقی وزرا، ریاستی وزرا، مشیران اور وزیرِاعظم کے معاونین خاص سیلابی ریلیف کے لیے ایک ماہ کی تنخواہ دیں گے۔

دفترِ وزیرِاعظم کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ ظاہری تضاد اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ مالیات ڈویژن بیوروکریٹس کی تنخواہوں سے متعلق معاملات دیکھتا ہے، جب کہ کابینہ ڈویژن کابینہ اراکین کی تنخواہوں اور مراعات کی نگرانی کرتا ہے۔

اہلکار نے کہا کہ اگرچہ مالیات ڈویژن کے نوٹی فکیشن سے یہ تاثر ملا کہ وزیرِاعظم کا اعلان واپس لے لیا گیا ہے، لیکن وزرا یقینی طور پر سیلاب زدگان کو اپنی ماہانہ تنخواہ عطیہ کریں گے۔

مالیات ڈویژن کی ایک اور نوٹی فکیشن میں وضاحت کی گئی کہ عطیات کا حساب مجموعی تنخواہ اور الاؤنسز کے مطابق کٹوتیوں سے پہلے کیا جائے گا اور انہیں افسران و اہلکاروں کی قابلِ ٹیکس آمدنی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔