غیر ملکی کمپنی کی پاکستان میں مکئی کے ہائبرڈ بیج متعارف کرانے میں دلچسپی
سنگاپور میں قائم ہائبرڈ بیج کمپنی نے پاکستان میں مکئی کے ہائبرڈ بیج متعارف کرانے پر گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سنگاپور میں قائم ایک ہائبرڈ بیج کمپنی نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحمت رکھنے والے مکئی کے ہائبرڈ بیج متعارف کرانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں زیادہ پیداوار حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
کمپنی کے جنوب مشرقی ایشیائی مارکیٹس کے کمرشل ڈائریکٹر برائس اسٹرجیس نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہمارے جدید مکئی کے ہائبرڈ بیج کی ٹیکنالوجی میں پیداوار کو 32 فیصد تک بڑھانے کی صلاحیت ہے، جس سے کسانوں کو زیادہ پیداوار اور بہتر منافع حاصل ہوگا۔
برائس اسٹرجیس نے وزیر کو بتایا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحم مکئی کے ہائبرڈ بیج متعارف کروا کر ہمارا مقصد کسانوں کو پانی کی کمی اور بدلتے موسمی حالات جیسے مسائل سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کورٹیوا پاکستان کی حکومت کے ساتھ مل کر خوراک کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے پائیدار اور کسان دوست مکئی کے ہائبرڈ بیجوں پر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
سنگاپور کے وفد کے سربراہ نے کہا کہ جدید مکئی کے ہائبرڈ بیجوں کے استعمال سے پاکستان کی زرعی برادری نہ صرف زیادہ پیداوار حاصل کرے گی بلکہ ملک کی طویل المدتی زرعی پائیداری میں بھی کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے پاکستان کے زرعی شعبے میں مختلف اقدامات اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کی تفصیلات بھی پیش کیں۔
وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے کو جدیدیت اور اختراعی طریقہ کار کی اشد ضرورت ہے تاکہ درپیش چیلنجز پر قابو پایا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ ہائبرڈ بیج ٹیکنالوجی اور بہتر زرعی طریقہ کار کے ذریعے کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ، فصلوں کے نقصانات میں کمی اور قومی سطح پر غذائی خود کفالت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔