پاکستان

حافظ نعیم الرحمٰن کا پورے ملک میں 2001 کا بلدیاتی نظام واپس لانے کا مطالبہ

کراچی میں بارش سے پورا شہر متاثر ہوا، اربن فلڈنگ ہوئی، یہ نااہلی نالائقی اور لوٹ مار کی وجہ سے ہے، امیر جماعت اسلامی نے سندھ حکومت سے فنڈز کا حساب مانگ لیا۔

امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے پورے ملک میں 2001 کا بلدیاتی نظام واپس لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سندھ حکومت سے ملے والے پیسوں کا حساب مانگ لیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ہمیں کچرا اٹھانے کے پیسے دینے پڑتے ہیں، سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ذریعے اربوں روپے ہڑپ کر لیے گئے، ہر صوبے میں بااختیار بلدیاتی نظام نافذ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بارش سے پورا شہر متاثر ہوا، اربن فلڈنگ ہوئی، یہ نااہلی نالائقی اور لوٹ مار کی وجہ سے ہے، پاکستان میں 67 فیصد ٹیکس کراچی ادا کرتا ہے، قبضہ کر کے میئر شپ پیپلز پارٹی کو دی گئی ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے سندھ حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مد میں جو پیسے آپ کو ملے ہیں ان کا حساب دیں، یہ لوگ فنڈز کھا جاتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے،لوٹ مار کا سسٹم کراچی سے کشمور تک پایا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بتائیں کہ کراچی میں اربن فلڈنگ کا ذمے دار کون ہے، ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں 2001 کا بلدیاتی نظام واپس لایا جائے، بیوروکریسی کو بلدیاتی اداروں کے ماتحت کیا جائے، اس وقت سارا قبضہ وڈیروں اور جاگیر داروں کا ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے سندھ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سے بات کرو تو یہ اسے لسانی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔