پاکستان

کراچی: پولیس اہلکار کی ٹارگٹ کلنگ میں کالعدم شدت پسند گروہ کے ملوث ہونے کا شبہ

شاہ لطیف ٹاؤن پولیس میں تعینات 35 سالہ ہیڈ کانسٹیبل متھرو خان کو پپری کے قریب مسلح موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار کر قتل کردیا تھا، واقعے کا مقدمہ درج

کراچی میں پولیس نے بن قاسم کے علاقے میں ہونے والے ایک پولیس اہلکار کے ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا، انسداد دہشت گردی محکمے (سی ٹی ڈی) نے اہلکار کے قتل اور کئی دیگر واقعات میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔

واضح رہے کہ 27 اگست کو شاہ لطیف ٹاؤن پولیس میں تعینات 35 سالہ ہیڈ کانسٹیبل متھرو خان کو پپری کے قریب مسلح موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا، بعد ازاں ایک غیر معروف گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

یہ ملیر ضلع میں ٹارگٹ کلنگ کا دوسرا واقعہ ہے، اس سے قبل 18 اگست کو اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد خان ابڑو کو بھی مسلح موٹر سائیکل سواروں نے اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا تھا جب وہ بن قاسم میں اپنے گھر کے باہر گاڑی سے اترے تھے۔

بن قاسم پولیس کے ایس ایچ او خالد رفیق نے کہا کہ نامعلوم ملزمان کے خلاف دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

محممہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے سینئر افسر راجا عمر خطاب نے ڈان نیوز کو بتایا کہ انہیں شبہ ہے کہ پپری میں پولیس اہلکار کے قتل کے پیچھے کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ، چھ ماہ سے مختلف پلیٹ فارمز سے ذمہ داری قبول کرنے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جنہیں سی ٹی ڈی کی جانب سے چیک اور مانیٹر کیا جا رہا ہے، انہوں نے بتایا کہ چونکہ کالعدم ٹی ٹی پی کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بلاک ہو چکا ہے، اس لیے شدت پسند گروہ نئے پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہیں۔

راجا عمر خطاب ، جنہوں نے شہر میں دہشت گردی کے متعدد مقدمات کی تحقیقات کی ہیں، نے کہا کہ بعض دعوے مشکوک لگتے ہیں، وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دو واقعات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے دعویٰ کیا گیا لیکن وہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سرے سے پیش ہی نہیں آئے۔

انہوں نےمزید کہا کہ اسی طرح حال ہی میں سائٹ سپر ہائی وے انڈسٹریل ایریا کے علاقے فقیر گوٹھ میں تین افراد کے قتل کی ذمہ داری بھی شدت پسندوں نے قبول کی، ان میں سے ایک شخص کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مخبر بتایا جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا کہ تینوں قتل ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھے لیکن شدت پسند گروہ نے ان کی ذمے داری بھی قبول کی، انہوں نے نشاندہی کی کہ دہشت گرد عام طور پر ’ ہٹ اینڈ رن’ طرز پر ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں۔

اس کے برعکس فقیر گوٹھ کے واقعے میں ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کی، مزید یہ کہ تین افراد کے قتل کے واقعے میں ریپیٹر استعمال ہوا جبکہ دہشت گرد ماضی کے کیسز میں شاذ و نادر ہی ایسا اسلحہ استعمال کرتے رہے ہیں۔

تاہم راجا عمر خطاب نے رائے دی کہ انہیں شبہ ہے کہ حال ہی میں قیوم آباد پولیس چوکی پر حملے، پپری میں پولیس اہلکار کے قتل اور ڈیفنس و کورنگی میں پولیس اہلکاروں پر قاتلانہ حملوں کے پیچھے کالعدم شدت پسند گروہوں کے آثار موجود ہیں۔