آئندہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو فنڈز کا اجرا مکمل پلان کی آگاہی سے مشروط ہوگا، سیکریٹری آئی پی سی
سیکریٹری وزارتِ بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) محی الدین احمد وانی کہا ہے کہ آئندہ پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) کو رقم اُس وقت تک جاری نہیں کی جائے گے جب تک ہمیں مکمل پلان سے آگاہی فراہم نہیں کر دی جاتی۔
ڈان نیوز کے مطابق بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر شیخ آفتاب احمد کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری آئی پی سی محی الدین احمد وانی نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت سے درخواست کر کے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (آئی ایچ ایف) پرو لیگ کے لیے رقم منظور کروائی گئی۔
ہم نے بہت مشکل سے آئی ایچ ایف پرو لیگ کے لیے حکومت سے پیسے لیے، کچھ عرصہ قبل بھی قومی ہاکی ٹیم دورہ ملائشیا میں بلز کے ادائیگی کے بغیر وطن واپس آگئی تھی، جس پر حکومت نےکہا ملک کی عزت کی بات ہے، ہم قومی ٹیم کا بل جمع کروا دیتے ہیں۔
اجلاس میں صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن کی قانونی حیثیت کا ایجنڈا بھی زیر بحث آیا، ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ یاسر پیرزادہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن عام طور پر تو منتخب ہوتا ہے، اُس وقت کے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے طارق بگٹی کو ایڈ ہاک کی بنیاد پر 21 دسمبر 2023 کو صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن تعینات کیا۔
میرا خیال ہے کہ سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ ہاکی فیڈریشن کے صدر کی تعیناتی نہیں کرسکتے تھے، کنوینئر کمیٹی شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ جو مسائل اٹھائےگئے ہیں ان کی قانونی حیثیت کیا ہے ؟ جس پر وزارت قانون و انصاف حکام نے جواب دیا کہ جب تک صدر ہاکی فیڈریشن کی آسامی خالی نہ ہو تو ایک اور صدر کی تعیناتی نہیں ہو سکتی۔
اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےکہا کہ اگر یہ معاملہ ابھی عدالت میں بھی ہے تو پہلے مکمل دستاویزات شیئر کی جائیں، مکمل دستاویزات پڑھنے کے بعد ہی لیگل رائے دے سکیں گے۔
جس پر قائمہ کمیٹی نے 2 ہفتوں میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے معاملے پر بریفنگ طلب کر لی، اجلاس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن میں فنانشل مسائل، مالی بے ضابطگیوں اور شفافیت کا ایجنڈا بھی زیرِ بحث آیا۔
ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن کہتی ہے ہمیں لوگوں کے کروڑوں روپے ادا کرنے ہیں، آڈٹ اکاؤنٹس کہتے ہیں کہ ہاکی فیڈریشن نے کسی کو پیسے نہیں دینے، پی ایچ ایف پروپوزل دے گی تو پی ایس بی اسے منظور کرےگی اور براہ راست پیسے دے گی، اگر کھلاڑیوں کو براہ راست پیسے دینے ہیں تو ایک بار مسلہ حل کر لیں گے۔
اجلاس میں موجود سیکریٹری پاکستان ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد نے کہا کہ مجھے بتایا جائے کہ اسپورٹس بورڈ یا ہاکی فیڈریشن کے آئین پر چلوں ؟ جس پر سیکریٹری پی ایس بی نے جواب دیا کہ حکومت نے جو پیسہ دیا تو حکومت کے قوانین کے مطابق چلیں۔
سیکریٹری ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد نے کہا کہ کھلاڑیوں کو پیسے دینے کےحوالے سے اسپورٹس بورڈ اور ہاکی فیڈریشن کے قوانین الگ الگ ہیں، اگر غیرملکی کوچ کو لانا ہے تو ہاکی فیڈریشن نے اپنے حساب سے چلنا ہے، ہاکی فیڈریشن 100 ڈالرز روزانہ کھلاڑیوں کو دیتا ہے۔
سیکریٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ محی الدین احمد وانی نے جواب دیا کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے، ہاکی کی گرانٹس ایک طرف اور دیگر فیڈریشز کی گرانٹس دوسری طرف ہیں۔
یہ اسلام آباد کی ہاکی فیڈریشن نہیں، قومی ہاکی فیڈریشن ہے، سوال ہے رانامجاہد، طارق بگٹی اچھے کھلاڑی تھے لیکن کیا اچھے فنانس مینیجر ہیں یا نہیں ؟ حکومت کا پیسہ عوام کا پیسہ ہے، اسے بغیر دیکھے تو جاری نہیں کر سکتے۔
سیکریٹری جنرل ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن نے جرمنی اور عمان کے 4،4 میچز کی میزبانی کی، قومی ٹیم 18ویں سے 12ویں نمبر پر آگئی ہے، ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم نے غلطی کردی اور کٹہرے میں کھڑے ہیں۔
جس پر سیکریٹری وزارت بین الصوبائی رابطہ نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی فنانشل مینجمنٹ بہت خراب ہے، حکومت کے پیسے کھلاڑیوں پر خرچ کریں، آفیشلز پر نہیں، حکومت نے آفیشلز کے ہزاروں ڈالرز بھرے ہیں۔