این ایچ اے ناکام اور بدعنوانی اتھارٹی بن گئی ہے، سینیٹ قائمہ کمیٹی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) ایک بدعنوان اور ناکام اتھارٹی بن گئی ہے، این ایچ اے افسران کے خلاف تحریک استحقاق لائیں گے، سیکریٹری مواصلات کو عہدے سے فارغ کیا جائے، یہ سب توہین پارلیمنٹ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، اجلاس میں ٹرینچ 3 راجن پور سے ڈی آئی خان پروجیکٹ کا ایجنڈا زیر بحث آیا۔
ذیلی کمیٹی نے چیئرمین این اے کی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذیلی کمیٹی کی طرف سے این ایچ اے کو پروجیکٹ کی تفصیلات فراہم کرنے سے متعلق خط لکھا گیا تھا،خط کا جواب تک نہیں دیا گیا۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ جو خط لکھ کر این ایچ اے سے دستاویزات مانگی گئیں وہ ابھی تک فراہم نہیں کی گئیں، اور جو بریفنگ پیپرز کمیٹی میں پیش کیے گئے ہیں، یہ سب پرانے ہیں اس میں کوئی نئی اپ ڈیٹ نہیں ہے۔
اس پر این ایچ اے حکام نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بریف پیپرز پرانے ہیں ہم اسے اپ ڈیٹ نہیں کرسکے۔
سینیٹر ضمیر گھومرو نے کہا کہ این ایچ اے چیئرمین کمیٹی میں نہیں آرہے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے، این ایچ اے کمیٹی اور سینیٹ کے خلاف اخبارات میں خبریں چلوا رہا ہے، نیب اور وزیراعظم کو ان کے خلاف لکھیں گے، این ایچ اے افسران کے خلاف تحریک استحقاق لائیں گے۔
کنوینئر کمیٹی نے کہا کہ اگر کوئی اعتراض کرتا ہے تو کرے، ہم یہاں آئین و قانون کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
اجلاس میں این ایچ اے کی جانب سے بلیک لسٹ چینی کمپنی ننجا کمیونیکیشن کنسٹرکشن (این ایکس سی سی) کو ٹھیکہ دیے جانے کا معاملہ زیر غور آیا، جس پر کمیٹی کو دستاویزات فراہم نہ کرنے اور چیئرمین این ایچ اے کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔
سینیٹر ضمیر حسین گھومرو نے کہا کہ این ایچ اے افسران پارلیمنٹ کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں، ہم توہین پارلیمان سمیت نیب کو بھی کیس بھیج سکتے ہیں۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ہمیں ٹھیکیداروں اور این ایچ اے افسران کی جانب سے تحقیقات بند کرنے کا کہا جا رہا ہے،جب تک سیکریٹری یہاں نہیں آتے یا ان کو عہدوں سے فارغ نہیں کیا جاتا یہ معاملہ بڑھ نہیں سکتا۔
سینیٹر ضمیر حسین گھومرو نے کہا کہ این ایچ اے ایک بدعنوان اور ناکام اتھارٹی بن گئی ہے، پیپرا نے بھی بلیک لسٹ غیر ملکی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا ہے، ذیلی کمیٹی نے این ایچ اے افسران کو سفارشات مرتب کر کے چیئرمین این ایچ اے کو پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ اگر چیئرمین این ایچ اے سفارشات پر عمل نہیں کرتے تو ہم دیکھ لیں گے۔