دنیا

اسرائیلی فوج کے غزہ میں ’محفوظ علاقوں‘ اور امداد کے متلاشی افراد پر حملے، مزید 40 فلسطینی شہید

قابض افواج غزہ میں باقی رہ جانے والی بلند عمارتوں، خیموں میں موجود بے گھر فلسطینوں اور امداد کی متلاشی افراد کو مسلسل حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔

اسرائیلی فورسز نے غزہ کے محفوظ قرار دیے گئے علاقوں اور امداد کے متلاشی افراد پر حملوں میں اضافہ کر دیا، جس کے نتیجے میں آج (6 ستمبر) مزید 40 فلسطینی شہید ہو گئے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ میں باقی بچ جانے والی بلند اور دیگر رہائشی عمارتوں، خیموں میں موجود بے گھر فلسطینوں اور امداد کی متلاشی افراد کو مسلسل حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔

اسرائیلی فورسز نے غزہ میں متعدد رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا جن میں درجنوں بے گھر فلسطینی خاندان رہائش پذیر تھے، یہ حملے قابض افواج کی جانب سے جبری انخلا کی نئی دھمکیوں کے بعد کیےگئے۔

غزہ کی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے نے غزہ سٹی کے زیتون محلے کی الفاروق اسٹریٹ پر مرتجہ خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا، جس میں کئی افراد زخمی ہوئے جبکہ کچھ ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

طبی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ فجر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 41 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں سے 25 افراد غزہ سٹی میں اور 6 امداد لینے والے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خان یونس کے علاقے المواسی میں، جہاں اسرائیل نے نام نہاد انسانی ہمدردی کا زون قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، ایک خیمہ بستی پر بمباری میں 2 افراد شہید جب کہ کئی زخمی ہوئے ہیں۔

یہ حملہ اُس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہوا ہے جب اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو حکم دیا تھا کہ شہری غزہ سٹی کے شمالی محاصرے کے دوران اس علاقے میں منتقل ہو جائیں۔

غزہ کی وزارت داخلہ کا انتباہ

غزہ کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر غزہ سٹی میں رہائشی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے تاکہ وہاں موجود رہائشیوں کو اپنےگھروں سے نکلنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کے رہائشی ٹاور اور شہری ڈھانچوں کے عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے کے حوالے سے دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔

وزارت نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ اسرائیلی محفوظ علاقوں کے دعوؤں پر یقین نہ کریں کیونکہ ان مقامات کو پچھلے 2 برسوں میں کئی مرتبہ بمباری کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

وزارت نے کہا کہ ان احکامات پر عمل کرنا اسرائیل کو جبری بے دخلی مسلط کرنے میں مدد دے گا۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کم از کم 64 ہزار 368 فلسطینیوں کو شہید جب کہ ایک لاکھ 62 ہزار 367 شہریوں کو زخمی کیا گیا ہے۔