دنیا

فرانسیسی وزیرِاعظم پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ نہ ملنے پر برطرف

فرانسیسی وزیراعظم کی برطرفی کے بعد صدر ایمانوئل میکرون نئے جانشین کی تلاش کے چیلنج سے دوچار ہیں اور ملک ایک نئے سیاسی بحران میں داخل ہوگیا ہے۔

فرانس کی پارلیمنٹ نے وزیراعظم فرانسوا بیرو کی حکومت کو صرف نو ماہ بعد اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد انہیں عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق فرانس کی پارلیمنٹ نے وزیراعظم فرانسوا بیرو کی حکومت کو صرف نو ماہ بعد برطرف کر دیا، جس کے بعد صدر ایمانوئل میکرون نئے جانشین کی تلاش کے چیلنج سے دوچار ہیں اور ملک ایک نئے سیاسی بحران میں داخل ہوگیا ہے۔

فرانسوا بیرو صرف نو ماہ سے اس عہدے پر فائز تھے، انہوں نے اپنے اتحادیوں کو بھی حیران کر دیا جب انہوں نے اپنے سخت گیر بجٹ پر طویل تعطل ختم کرنے کے لیے اعتماد کا ووٹ طلب کیا، اس بجٹ میں فرانس کے قرضوں کو کم کرنے کے لیے تقریباً 44 ارب یورو (52 ارب ڈالر) کی بچت کی تجویز دی گئی تھی۔

بیرو، جدید فرانس کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں عدم اعتماد کے بجائے اعتماد کے ووٹ کے بعد برطرف کیا گیا۔

قریبی ذرائع کے مطابق وہ منگل کی صبح اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔

قومی اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ میں 364 اراکین نے حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جب کہ صرف 194 نے اعتماد دیا۔

اسپیکر یائل براؤن-پیویٹ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت وزیراعظم کو اپنی حکومت کا استعفیٰ پیش کرنا ہوگا۔

فرانسوا بیرو، ایمانوئل میکرون کے دور میں چھٹے وزیراعظم ہیں، جب کہ 2022 کے بعد پانچوے، ان کی برطرفی نے فرانسیسی صدر کو ایک نئے داخلی بحران سے دوچار کر دیا ہے، ایسے وقت میں جب وہ یوکرین جنگ پر سفارتی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

تاہم، اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے بیرو نے قومی اسمبلی میں کہا کہ سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ ووٹ نہ لیا جائے، حالات کو بغیر کسی تبدیلی کے چلنے دیا جائے اور سب کچھ پہلے جیسا ہی رہ جائے۔