رواں مالی سال کے 2 ماہ میں عوامی شعبے کی ترقیاتی اسکیموں پر محض 5 ارب 30 کروڑ روپے خرچ
پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) نے رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ میں سست روی کا مظاہرہ کیا ہے، جس میں صرف 5 ارب 30 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جو کہ سالانہ مختص 10 کھرب روپے کا محض 0.5 فیصد بنتا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اخراجات کی یہ سست رفتار، اس حقیقت کے باوجود سامنے آئی ہے کہ حکومت نے سیکڑوں منصوبے بند کرکے صرف اسٹریٹجک منصوبوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اہم انفرااسٹرکچر اور سماجی ترقی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے تشویش پیدا کرتی ہے۔
وزارتِ منصوبہ بندی و ترقیات کے مطابق جولائی اور اگست 2025 کے دوران پی ایس ڈی پی پر کل اخراجات 5 ارب 30 کروڑ روپے رہے، وزارتِ خزانہ نے سہ ماہی اخراجات کا فریم ورک طے کیا تھا، جس کے تحت پہلی سہ ماہی میں مجموعی مختص رقم کا 15 فیصد خرچ ہونا تھا، تاہم اصل اخراجات توقعات سے کہیں کم رہے اور 155 ارب 56 کروڑ روپے کے مجاز فنڈز میں سے صرف 5 ارب 30 کروڑ روپے استعمال ہوئے۔
وفاقی وزارتوں کو سال کے لیے مجموعی طور پر 683 ارب روپے مختص کیے گئے تھے لیکن وہ محض 4 ارب 65 کروڑ روپے (0.68 فیصد) ہی خرچ کرسکیں، جب کہ دو بڑی انفرااسٹرکچر باڈیز نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) نے اپنے مشترکہ 317 ارب روپے کے فنڈز میں سے صرف 65 کروڑ 70 لاکھ (0.2 فیصد) خرچ کیے، قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ این ایچ اے نے پہلے 2 ماہ میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔
اہم شعبوں میں بھی اخراجات نہایت مایوس کن رہے، مثال کے طور پر، ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن نے اپنے 2 ارب 78 کروڑ روپے کے فنڈ میں سے صرف 85 لاکھ روپے (0.3 فیصد) خرچ کیے، اور وزارتِ قومی غذائی تحفظ نے 4 ارب 25 کروڑ روپے کے فنڈ میں سے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے (1.5 فیصد سے بھی کم) استعمال کیے، تعلیم کا شعبہ نسبتاً بہتر رہا، جہاں وزارتِ تعلیم نے ایک ارب 70 کروڑ روپے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ایک ارب 56 کروڑ روپے سے زائد استعمال کیے۔
ایک کھرب روپے کے پی ایس ڈی پی میں سے صرف 0.5 فیصد استعمال ہوا، جس سے کلیدی منصوبوں میں تاخیر کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
کل 10 وفاقی وزارتوں (جن میں تجارت، پیٹرولیم اور مذہبی امور شامل ہیں) نے ترقیاتی منصوبوں پر کوئی اخراجات رپورٹ نہیں کیے، صوبوں اور خصوصی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیے 253 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، لیکن وہاں بھی پیش رفت نہ ہونے کے برابر رہی، اور پہلی سہ ماہی کے لیے صرف 40 ارب روپے رکھے گئے۔
اخراجات کی یہ کم شرح براہِ راست ان مالیاتی پابندیوں کا نتیجہ ہے جو پاکستان کے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کے تحت لگائی گئی ہیں، جس میں مالی سال 2026 کے لیے نئے پی ایس ڈی پی منصوبوں کو کل مختص رقم کے صرف 2 فیصد تک محدود کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔
حکومت نے قومی اہمیت کے جاری منصوبوں کی تکمیل پر توجہ مرکوز کی ہے، جس کے تحت 344 ارب روپے مالیت کے 2 ہزار 518 منصوبے مکمل یا بند کر دیے گئے ہیں۔
ترقیاتی پورٹ فولیو کا کل تخمینہ تقریباً 90 کھرب روپے ہے، جسے موجودہ رفتار کے مطابق مکمل ہونے میں 14 سال سے زیادہ لگ جائیں گے، اور یہ صورتحال ملک کے طویل المدتی ترقیاتی اہداف پر سوالیہ نشان لگاتی ہے۔
پی ایس ڈی پی اخراجات کی یہ سست رفتاری معیشت کی نمو اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق کلیدی منصوبوں پر اثرانداز ہوسکتی ہے، جس سے پہلے ہی مشکل حالات کا شکار معیشت کے لیے مزید چیلنجز کھڑے ہوسکتے ہیں۔