پاکستان

حکومتی بانڈز میں سرمایہ کاری، جنوری تا جون بینکوں کے اثاثوں میں 11 فیصد اضافہ

حکومت کا گھریلو قرض 7 کھرب 13 ارب روپے بڑھ گیا، اور جی ڈی پی کے 70.2 فیصد تک پہنچ گیا، معیشت مزید دباؤ میں آگئی، اسٹیٹ بینک کی رپورٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے کیلنڈر سال 2025 کی پہلی ششماہی کے دوران بینکنگ سیکٹر کے اثاثوں میں 11 فیصد اضافہ رپورٹ کیا ہے، جو زیادہ تر حکومتی بانڈز میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کی وجہ سے ہوا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایس بی پی نے اپنی وسط سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں جنوری سے جون 2025 تک بینکنگ سیکٹر کی کارکردگی اور مضبوطی کو اجاگر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری اثاثہ جات میں اضافے کی بنیادی وجہ رہی، جو حکومت کے فنڈز کے حصول کے لیے بینکنگ سیکٹر پر انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔

اس کے علاوہ، مالی سال 2025 کے دوران حکومت کا مقامی قرض (جو زیادہ تر بینکوں کے قرضوں پر مشتمل ہے) 7 کھرب 13 ارب روپے بڑھ گیا، جس سے کُل قرضہ جی ڈی پی کے 70.2 فیصد تک پہنچ گیا اور معیشت مزید دباؤ میں آگئی۔

ان خدشات کے باوجود ایس بی پی نے نوٹ کیا کہ عوامی اور نجی دونوں شعبوں میں ایڈوانسز میں کمی آئی، تاہم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو فکسڈ سرمایہ کاری ایڈوانسز میں اضافہ جاری رہا، جب کہ ڈپازٹس 17.7 فیصد کی شاندار شرح سے بڑھے جس سے بینکوں کا قرضوں پر انحصار کم ہوا۔

جائزے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بینکنگ سیکٹر کا کریڈٹ رسک قابو میں رہا، اور نان پرفارمنگ لونز (این پی ایلز) میں کمی ہوئی، تاہم ایڈوانسز میں سکڑاؤ کی وجہ سے جون 2025 تک مجموعی این پی ایل ٹو نیٹ لونز کا تناسب معمولی بڑھ کر 7.4 فیصد تک پہنچ گیا۔

اس کے باوجود، بینکنگ سیکٹر نے خالص این پی ایل ٹو نیٹ لونز کا تناسب 0.5 فیصد پر برقرار رکھا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قرضہ جات کے نقصانات کے لیے زیادہ پروویژن رکھنے کی وجہ سے نیٹ بنیاد پر رسک کم ہے۔

بینکنگ سیکٹر کی آمدن مستحکم رہی اور بینکوں کو زیادہ حجم والے کمانے والے اثاثوں سے فائدہ ہوا، اس کے نتیجے میں اثاثہ جات پر منافع (آر او ای) 1.3 فیصد پر مستحکم رہا، جب کہ حصص یافتگان کی ایکویٹی پر منافع (آر او ای) 21.3 فیصد رہا، جو دسمبر 2024 کے تقریباً برابر رہا۔

بینکنگ سیکٹر کا سرمایہ جاتی کفایت شعاری کا تناسب (کیپیٹل ایڈیوکیسی ریشو ) دسمبر 2024 کے 20.6 فیصد سے بڑھ کر جون 2025 میں 21.4 فیصد ہو گیا۔