پاکستان

مالی مشکلات کے باعث حکومت نے پروویڈنٹ فنڈز پر منافع میں 1.51 فیصد کمی کر دی

پروویڈنٹ فنڈز پر منافع کی شرح 12.46 فیصد کر دی گئی، مالی سال کے دوران ان فنڈز میں تمام سبسکرپشنز اور بیلنسز اس شرح کے تحت آئیں گے، وزارت خزانہ کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے مالی سال 25-2024 کے لیے پروویڈنٹ فنڈز پر منافع کی شرح کم کر کے 12.46 فیصد کر دی ہے، جو گزشتہ سال کی 13.97 فیصد شرح کے مقابلے میں 1.51 فیصد پوائنٹس کی کمی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ کے نوٹی فکیشن کے مطابق یہ نئی شرح جنرل پروویڈنٹ فنڈ (جی پی ایف) اور کنٹریبیوٹری پروویڈنٹ فنڈ (سی پی ایف) دونوں پر لاگو ہوگی، اور مالی سال کے دوران ان فنڈز میں تمام سبسکرپشنز اور بیلنسز اس شرح کے تحت آئیں گے۔

یہ کمی حکومت کے اُس رجحان کا تسلسل ہے جس کے تحت پروویڈنٹ فنڈز پر منافع کی شرح بتدریج کم کی جا رہی ہے، مالی 24-2023 میں بھی شرح کو 14.22 فیصد سے گھٹا کر 13.97 فیصد کیا گیا تھا۔

نئی شرح وزارتِ ریلوے اور وزارتِ دفاع کے ماتحت پروویڈنٹ فنڈ بیلنسز پر بھی اثر انداز ہوگی، تاہم یہ محکمے مالی سال 25-2024 کے لیے اپنی مخصوص شرحِ منافع کے حوالے سے الگ ہدایات جاری کریں گے۔

شرحِ منافع میں یہ کمی حکومت کی مجموعی مالیاتی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت صوبوں اور سرکاری اداروں (ایس او ایز) کو دیے گئے قرضوں پر مارک اپ میں بھی کمی کی جا رہی ہے، مثال کے طور پر اگست کے آخر میں حکومت نے ترقیاتی قرضوں پر صوبائی حکومتوں، بلدیاتی اداروں اور سرکاری مالیاتی اداروں کے لیے شرحِ سود تقریباً 0.1 فیصد پوائنٹ گھٹا دی تھی۔

مالی سال 25-2024 کے لیے کیش ڈیولپمنٹ لونز (سی ڈی ایلز) پر مارک اپ 17.74 فیصد مقرر کیا گیا ہے، جو مالی سال 24 کی 17.84 فیصد شرح سے معمولی کمی ہے، یہ کمی ان پچھلے برسوں کے برعکس ہے جب شرح میں تیزی سے اضافہ کیا گیا تھا۔ مالی سال 21 میں یہ شرح 10.30 فیصد تھی جو اب تک 73 فیصد سے زائد بڑھ چکی ہے۔

مالی سال 2017 سے اب تک وفاقی حکومت کے ترقیاتی قرضوں پر عائد شرحِ سود میں تقریباً 175 فیصد اضافہ ہوچکا ہے، جو اُس وقت 6.54 فیصد تھی، یہ قرضے وفاقی حکومت کے لیے آمدن کا بڑا ذریعہ ہیں، اور مالی سال 25 میں اس مد میں 245 ارب روپے اکٹھے ہونے کی توقع ہے، جس میں سے 95 ارب 45 کروڑ صوبوں سے اور 155 ارب روپے ایس او ایز اور دیگر اداروں سے وصول ہوں گے۔ حکومت کا مالی سال 26 کے لیے سودی آمدن کا ہدف 284 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

اگرچہ حکومت بین الاقوامی قرض دہندگان سے نسبتاً کم شرحِ سود پر قرض لیتی ہے، لیکن یہ رقوم صوبائی حکومتوں اور عوامی اداروں کو نمایاں طور پر زیادہ شرح پر فراہم کی جاتی ہیں۔

یہ قرضے، بشمول کیش ڈیولپمنٹ لونز (سی ڈی ایلز) اور فارن ری-لینٹ لونز، صوبائی ترقیاتی پروگراموں اور سماجی منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے ضروری ہیں، جب کہ ان پر جمع ہونے والا سود وفاقی آمدنی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے، ان قرضوں کی شرحِ سود حکومت کے اپنے قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات کی بنیاد پر ہر سال نظرِ ثانی کے بعد مقرر کی جاتی ہے۔