ریکوڈک منصوبے سے طویل المدتی سماجی و اقتصادی خوشحالی آئے گی، وفاقی وزیرخزانہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریکوڈک کا منصوبہ بلوچستان کے معاشی منظرنامے کو بدلنے اور پاکستان کے عوام کے لیے وسیع تر فوائد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس منصوبے سے طویل المدتی سماجی و اقتصادی خوشحالی آئے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے ان خیالات کا اظہار اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ریکوڈک منصوبے سے متعلق اہم معاہدوں اور مالیاتی امور پر غور کیا گیا۔
ای سی سی نے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر غور کیا جس میں ریکوڈک منصوبے کی فنانسنگ سے متعلق حتمی معاہدوں اور مالی ذمہ داریوں کی منظوری کی سفارش کی گئی تھی۔
کمیٹی نے مجوزہ معاہدوں کی شرائط کی منظوری دی اور ہدایت کی کہ اگر معاہدوں کی حتمی دستاویزات میں کوئی بنیادی تبدیلی سامنے آتی ہے جسے منصوبے کے قانونی اور مالی مشیران اور ریکوڈک مائننگ کمپنی توثیق کریں، تو اسے دوبارہ ای سی سی کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔
مزید برآں، اجلاس میں وزارتِ ریلوے کی سمری پر بھی غور کیا گیا جس میں ریکوڈک مائننگ کمپنی کے ساتھ ریلوے ڈیولپمنٹ ایگریمنٹ اور برج فنانسنگ ایگریمنٹ شامل تھے۔ اس معاہدے کے تحت 390 ملین امریکی ڈالر کی برج فنانسنگ فراہم کی جائے گی تاکہ بلوچستان کی کانوں سے برآمدی مواد کی ترسیل کے لیے 1350 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک بچھایا جا سکے۔
ای سی سی نے اس تجویز کی منظوری دیتے ہوئے وزارت ریلوے کو ہدایت کی کہ دونوں معاہدوں کی دستاویزات وزارت خزانہ کے ساتھ شیئر کی جائیں تاکہ ان کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ مزید یہ کہ وزارتِ ریلوے اور وزارت خزانہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ مارچ 2026ء تک منصوبے کی پیش رفت اور عمل درآمد سے متعلق رپورٹ ای سی سی میں پیش کریں۔
اس موقع پر چیئرمین اجلاس، وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ای سی سی کی جانب سے دی گئی یہ منظوری حکومت کے اس پختہ عزم کا اظہار ہے کہ ریکوڈک جیسے تاریخی منصوبے کو آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بلوچستان کے معاشی منظرنامے کو بدلنے اور پاکستان کے عوام کے لیے وسیع تر فوائد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کہ ریکوڈک منصوبہ نہ صرف دنیا کے سب سے وسیع تانبے اور سونے کے ذخائر کو بروئے کار لائے گا بلکہ روزگار کے مواقع، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور خطے میں طویل المدتی سماجی و اقتصادی خوشحالی کو بھی یقینی بنائے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں، محکموں اور ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔