کراچی: کمسن بچیوں سے زیادتی کے ملزم کو عدالت میں سائلین نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا
کراچی کے علاقے قیوم آباد میں کمسن بچیوں سے زیادتی کرنے والے ملزم کی عدالت میں پیشی کے موقع پر متاثرہ بچی کی والدہ اور عدالت آنے والے سائلین نے ملزم کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
ڈان نیوز کے مطابق کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ملزم کو اعترافی بیان ریکارڈ کرانے کے لیے عدالت میں پیش کیا تھا۔
عدالتی ذرائع کے مطابق ملزم کا اعترافی بیان ریکارڈ کرنے والے جج کی طبیعت ناساز ہونے پر عدالت نے سماعت میں وقفہ کیا۔
احاطہ عدالت میں متاثرہ بچی کی والدہ نے ملزم پر تشدد کیا جبکہ عدالت آنے والے سائلین نے بھی ملزم کو مارا پیٹا جس سے ملزم کی حالت بگڑ گئی، جس کے بعد پولیس نے ملزم کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔ ملزم کے خلاف 7 مقدمات درج ہیں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل کراچی کی مقامی عدالت میں 100 سے زائد کمسن بچوں سے زیادتی کے کیس کی سماعت کے دوران متاثرہ 4 بچیوں نے جج کے روبرو ملزم شبیر تنولی کو شناخت کرلیا اور جج کے سامنے اپنا 164 کا بیان قلمبند کروا دیا تھا۔
ملزم کو قیوم آباد سی ایریا سے 11 ستمبر کو قبل اہل علاقہ نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا، ملزم کے موبائل فون سے 300 سے زائد بچوں اور بچیوں کی نازیبا ویڈیوز ملی تھیں۔
پولیس نے بتایا تھا کہ ملزم نے گزشتہ 10 سالوں کے دوران نابالغ لڑکیوں اور لڑکوں کا ریپ کرنے اور اپنے موبائل فون سے ان کی ویڈیوز بنانے کا اعتراف کیا۔
سینئر افسر نے کہا تھا کہ پولیس نے اس کے قبضے سے ایک موبائل فون برآمد کیا ہے جس میں اس کے کمرے میں 8 سے 12 سال کی عمر کی نابالغ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی/جنسی زیادتی کی سیکڑوں ویڈیوز موجود ہیں۔
دوران تفتیش ملزم نے اعتراف کیا تھا کہ وہ سیکڑوں نابالغ لڑکیوں کو چند سو روپے دے کر بہلاتا تھا، اس نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ وہ کمسن بچیوں کو اپنے کمرے میں لاتا تھا جہاں وہ اکیلا رہتا تھا اور قیوم آباد کے سی-ایریا میں اپنے کمرے میں تقریباً 100 نابالغ لڑکیوں کو ریپ کا نشانہ بنایا اور ان سب کی فلم بندی کی۔