غزہ میں صبح سے 46 فلسطینی شہید، پرتگال، برطانیہ آج ’فلسطین‘ کو تسلیم کریں گے
غزہ پر اسرائیل کی بمباری سے صبح سے اب تک 46 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اتوار کی طبی ذرائع سے صبح سے اب تک 46 فلسطینیوں کی شہادت کی تصدیق ہوئی ہے، اسرائیل ڈرون حملوں اور ریموٹ کنٹرول خود کش روبوٹس سے فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ہفتہ کے روز ایک ہی دن میں اسرائیلی افواج نے غزہ میں 91 فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد آج اتوار کو بھی اسرائیل کی جانب سے ’نسل کشی‘ جاری ہے، ایک معروف ڈاکٹر کے خاندان کے افراد اور ایک ٹرک پر سوار 4 افراد بھی شہید ہوئے ہیں، جو شمالی غزہ شہر چھوڑ کر جا رہے تھے۔
اسرائیل کی غزہ پر مسلط کردہ جنگ میں اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 65 ہزار 208 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 66 ہزار 271 زخمی ہوچکے ہیں، ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں اسرائیل میں ایک ہزار 139 افراد مارے گئے تھے اور تقریباً 200 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
غزہ کیلئے ایک اور ’بے خواب‘ رات
غزہ شہر میں رہ جانے والے لوگوں کے لیے گزشتہ شب ایک اور بے خواب رات تھی، ان علاقوں میں جہاں اسرائیلی فوج کی جانب سے بلا توقف بمباری کی جا رہی ہے، زیادہ تر لوگ اب بھی اپنے گھروں میں موجود ہیں۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگ وہاں سے نہیں نکل رہے، کیوں کہ خیموں یا اپنی پناہ گاہوں سے باہر قدم رکھنا محفوظ نہیں ہے، حملے ڈرون حملوں اور دور سے کنٹرول کیے جانے والے دھماکا خیز روبوٹس کا مجموعہ ہیں جو بے گھر افراد کے کیمپوں اور سڑکوں میں نصب کیے گئے ہیں۔
اتوار کو تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 46 فلسطینی اپنے گھروں کے اندر شہید ہوئے، جن میں 28 غزہ شہر میں شہید ہوئے، سب سے ہولناک حملہ صبرہ محلے میں رہائشی مکانات کے ایک جُھنڈ پر کیا گیا، جہاں لوگ حال ہی میں زیتون علاقے سے اسرائیلی فوج کی پیش قدمی کے باعث نقل مکانی کر کے آئے تھے۔
شہدا کی بڑی اکثریت کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا، امدادی کارکنوں نے 14 افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی ہیں، دیگر لوگ اب بھی ملبے کے ڈھیروں تلے پھنسے یا لاپتا ہیں۔
برطانیہ اور پرتگال آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے
برطانیہ اور پرتگال آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے جولائی میں کہا تھا کہ برطانیہ فلسطین کو تسلیم کرے گا، اگر اسرائیل کچھ اقدامات کرتا، جن میں غزہ میں جنگ بندی پر رضامندی اور ایک طویل المدتی امن عمل کے لیے عزم شامل تھا، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی ریاست قائم ہو سکے، لیکن اسرائیل ان اقدامات پر عمل کرنے میں ناکام رہا۔
اسٹارمر نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل تسلیم کریں گے، جس میں دنیا کے رہنما اگلے ہفتے جمع ہوں گے، دیگر ممالک فرانس، کینیڈا اور مالٹا بھی آنے والے دنوں میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔