نیو یارک: اقوام متحدہ اجلاس کے دوران ایک لاکھ سم کارڈز کا غیر قانونی نیٹ ورک بے نقاب
امریکی خفیہ سروس نے نیویارک کے ٹرائی اسٹیٹ علاقے میں نصب الیکٹرانک ڈیوائسز کے منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔
امریکی سیکرٹ سروس کے اعلامیے کے مطابق انٹیلیجنس تحقیقات کے نتیجے میں متعدد مقامات سے 300 سے زائد کو-لوکیٹڈ سم سرورز اور ایک لاکھ سم کارڈز برآمد کیے گئے۔
حکام کے مطابق نیٹ ورک امریکی حکومت کے اعلیٰ حکام کے خلاف ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلقہ خطرات پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ قبضے میں لی گئی ڈیوائسز کو گمنام ٹیلی فونک دھمکیوں کے ساتھ ساتھ ٹیلی کمیونیکیشن پر وسیع پیمانے پر حملوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔
برآمد ہونے والے ڈیٹا میں موبائل فون ٹاورز کو غیر فعال کرنا، ڈینائل آف سروس حملے کرنا اور ممکنہ خطرناک عناصر و مجرمانہ گروہوں کے درمیان انکرپٹڈ رابطے کو سہولت فراہم کرنا شامل ہو سکتا تھا۔
سیکریٹ سروس کے مطابق ڈیوائسز کی فرانزک جانچ پڑتال تاحال جاری ہے، تاہم ابتدائی تجزیہ کے مطابق برآمد ڈیوائسز کے ذریعے کئی ممالک کے خطرناک عناصر اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب افراد کے درمیان موبائل رابطے ہوئے تھے۔
امریکی خفیہ سروس کے ڈائریکٹر شان کرن نے اس حوالے سے بتایا کہ ہمارے ٹیلی کمیونیکیشن نظام میں ان ڈیوائسز کے نیٹ ورک کی وجہ سے پیدا ہونے والے ممکنہ خلل کو کسی طور بھی کم نہیں سمجھا جا سکتا۔
برآمد ہونے والی ڈیوائسز نیویارک سٹی میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے مقام سے 35 میل تقریبا (56 کلومیٹر) کی حدود سے برآمد ہوئیں، جسے اہم موقع، مقام اور نیویارک کے مواصلاتی نظام کو لاحق سنگین خطرے کے پیش نظر نیٹ ورک کو فوری طور پر غیر فعال کر دیا گیا۔
ادارے کے مطابق برآمد ڈیوائسز کے حوالے سے تحقیقات خفیہ سروس کے ایڈوانسڈ تھریٹ انٹرڈکشن یونٹ کر رہا ہے جب کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔