یہ جنگ نہیں، اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، رجب طیب اردوان کا اقوام متحدہ میں خطاب
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے پرجوش خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، عالمی برادری فوری اقدامات اٹھائے تاکہ خونریزی روکی جا سکے۔
ٹی آر ٹی ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب کے سامنے غزہ میں گزشتہ 700 دنوں سے نسل کشی جاری ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پچھلے 23 مہینوں میں اسرائیل نے ہر گھنٹے میں ایک بچے کو شہید کیا ہے، یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ہر ایک زندگی ہے، ایک معصوم انسان ہے۔‘
ترک صدر کا کہنا تھا کہ غزہ میں انسانی المیہ جدید تاریخ میں غیر معمولی ہے، جہاں دو یا تین سال کے چھوٹے بچے تک بغیر بے ہوشی کے اعضا سے محروم ہو رہے ہیں۔
انہوں نے عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ انسانیت کی پستی کی انتہا ہے، غزہ میں کوئی جنگ نہیں ہو رہی، یہاں دو فریق نہیں ہیں، یہ ایک جارحیت ہے، ایک نسل کشی ہے، اجتماعی قتلِ عام کی پالیسی ہے۔‘
ترک صدر نے ان ممالک کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے اور دوسروں پر زور دیا کہ ’فوری اقدام کریں۔‘
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ فلسطینی صدر محمود عباس نیویارک میں موجود نہیں، رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ ’فلسطینی عوام کی نمائندگی کر رہا ہے جن کی آوازیں دبائی جا رہی ہیں۔‘
ترک صدر نے غزہ میں فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور اسرائیل کے ’نسل کشی کے گروہ‘ کو جواب دہ بنانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے سے آگے بڑھ کر شام، ایران، یمن، لبنان اور قطر تک جارحیت پھیلا رہا ہے، جو پورے خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
رجب طیب اردوان نے کہا کہ ’اسرائیلی حکومت اپنی توسیع پسندانہ پالیسی کے ذریعے علاقائی امن اور انسانیت کی مشترکہ کامیابیوں کو تباہ کر رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو امن چاہتے ہیں اور نہ ہی یرغمالیوں کی رہائی۔
’مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہوں‘
ترک صدر نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ “انسانیت کے نام پر آج مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوں.
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں نے انسانی حقوق کی بنیادی ترین قدریں مٹا دی ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کے حقوق، اظہار رائے کی آزادی، مساوات اور انصاف شامل ہیں۔
رجب طیب اردوان نے سوال اٹھایا کہ ’کیا اس دنیا میں امن ہو سکتا ہے جہاں بچے بھوک اور دوائی کی کمی سے شہید ہو رہے ہوں؟ پچھلی صدی میں انسانیت نے ایسا ظلم نہیں دیکھا۔‘