پاکستان

یرغمال نہیں بنایا جاسکتا، سندھ ہائیکورٹ جسٹس جہانگیری ڈگری کیس کی سماعت میں ہنگامے پر برہم

جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کی منسوخی کے خلاف ساتوں درخواستیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہیں، 2 رکنی بینچ نے گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کے خلاف دائر 7 درخواستوں پر جمعرات کو ہونے والے شور شرابے اور ہنگامے کے ایک روز بعد جمعہ کو عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔

عدالت کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کو اس بات پر یرغمال نہیں بنایا جا سکتا کہ وکلا کی خواہش یا من مانی کے مطابق درخواستوں کی سماعت کس انداز میں کی جائے، حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ساتوں درخواستیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہیں۔

گزشتہ روز کی سماعت کے دوران جسٹس محمد کریم خان آغا اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل 2 رکنی آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق جہانگیری کی فریق بننے کی درخواست مسترد کردی تھی اور کہا تھا کہ سب سے پہلے درخواستوں کی قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ کیا جائے گا۔

اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ پہلے ان کے اعتراضات نمٹائے جائیں، تاہم عدالت نے اپنا مؤقف دہرایا کہ وہ پہلے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کا جائزہ لے گی۔

اس دوران کمرہ عدالت کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں وکلا جمع ہوگئے، نعرے بازی اور تالیاں بجائیں اور بعد میں ایک جج کے خلاف عدالت کے باہر احتجاج بھی کیا، وکلا اور درخواست گزار اپنے اعتراضات پر عمل درآمد نہ ہونے اور جسٹس طارق جہانگیری کی درخواست نہ سننے پر واک آؤٹ کر گئے۔

جمعہ کو جاری کیے گئے تحریری حکم نامہ میں عدالت نے کہا کہ جب درخواست گزاروں کے وکیل ایڈووکیٹ ابراہیم سیف الدین کو درخواستیں قابل سماعت ہونے کے سوال پر دلائل دینے کے لیے بلایا گیا تو انہوں نے انکار کردیا اور موقف اپنایا کہ پہلے صلاح الدین احمد اور فیصل صدیقی کے اعتراضات پر فیصلہ کیا جائے۔ بعد ازاں وہ بھی عدالت چھوڑ کر چلے گئے۔

عدالت نے قرار دیا کہ جب فیصل صدیقی کو بلایا گیا تو انہوں نے بھی یہی موقف اپنایا اور جب ان کی درخواست مسترد ہوئی تو وہ بھی کمرہ عدالت سے نکل گئے، وکیل صلاح الدین احمد نے بھی درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اعتراضات پہلے نمٹائے جائیں، وہ بھی بعد ازاں عدالت سے چلے گئے۔

عدالت کے علم میں آیا کہ دیگر درخواستوں کے وکلا بھی موجود نہیں تھے اور غالباً وہ بھی عدالت چھوڑ گئے تھے، اس بنا پر تمام درخواستیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کردی گئیں۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ وکلا کو سننے اور درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کا موقع دیا گیا مگر انہوں نے جان بوجھ کر اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

حکم نامے میں جسٹس طارق جہانگیری کی فریق بننے کی درخواست پر بھی بات کی گئی، عدالت نے کہا کہ انہوں نے اجازت سے عزت و وقار کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا، تاہم وہ کسی درخواست یا لسٹڈ اپلیکیشن پر بات نہ کر سکے اور بعد میں موقع دیے جانے کے باوجود وہ بھی عدالت سے چلے گئے، اس لیے ان کی درخواست بھی عدم پیروی پر خارج کی جاتی ہے۔

پس منظر

یہ مقدمہ جسٹس جہانگیری کی ڈگری سے متعلق ہے جو ایک خط کے بعد زیر بحث آیا تھا، یہ خط گزشتہ سال سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ کراچی یونیورسٹی (کے یو) کے کنٹرولر امتحانات کی جانب سے جاری ہوا ہے۔

وہ سات درخواستیں جو خارج کی گئیں، گزشتہ سال مختلف بار ایسوسی ایشنز، وکلا اور کے یو سنڈیکیٹ کے ایک رکن نے دائر کی تھیں۔ ان میں یونیورسٹی کی ان فیئر مینز کمیٹی (UMC) اور سنڈیکیٹ کے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا، جن کے تحت جسٹس جہانگیری کی ڈگری منسوخ کی گئی تھی۔

گزشتہ سال ستمبر میں سندھ ہائی کورٹ نے عبوری حکم کے ذریعے کے یو کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا اور یونیورسٹی کو کسی بھی قسم کے جبری اقدامات سے روک دیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی آبزرویشن دی تھی کہ ہر شہری کے منصفانہ ٹرائل کے حق کا تحفظ کیا جاتا ہے لیکن جسٹس جہانگیری کو ڈگری منسوخی سے قبل کوئی سماعت فراہم نہیں کی گئی تھی، جو بادی النظر میں قابل اعتراض، غیرقانونی اور غیر مجاز عمل تھا۔

یہ درخواستیں جمعرات کو سماعت کے لیے اس وقت مقرر ہوئیں جب سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (SHEC) نے فوری طور پر عبوری حکم ختم کرنے کی درخواست دائر کی۔