ایمان مزاری کا جسٹس ڈوگر کیخلاف درخواست پر ’ عدم کارروائی’ پر شکایتی خط
انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان زینب مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف اپنی دائر کردہ دفتری ہراسگی کی شکایت پر ’عدم کارروائی‘ کے حوالے سے ایک شکایتی خط جمع کرایا۔
خیال رہے کہ جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایمان مزاری کو توہینِ عدالت کے مقدمے کی وارننگ دی تھی اور یہ بھی رپورٹ کیا گیا تھا کہ انہوں نے ’ اسے قابو میں کرنے‘ جیسے انتباہی ریمارکس بھی دیے تھے، متعدد وکلاء تنظیموں نے ان ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئےاسلام آباد ہائی کورٹ کے سربراہ جج کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
15 ستمبر کو ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی ایک انکوائری کمیٹی اور سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کیا تھا اور 2010 کے خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسگی سے تحفظ کے قانون کی دفعہ 4 (انکوائری کے طریقہ کار) کے تحت شکایت دائر کی تھی۔
جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے ایمان مزاری کی شکایت کا نوٹس لیا تو اسلام آباد ہائیکورٹ انتظامیہ نے اُن ( جسٹس ثمن رفعت امتیاز ) سے ہراسگی کی شکایات سننے کے اختیارات واپس لے لیے تھے، اس کی بجائے جسٹس انعام امین منہاس کو اس مقدمے کی نگرانی کے لیے ’ مجاز اتھارٹی‘ مقرر کیا گیا، اس تبدیلی پر ایمان مزاری نے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کیا اور مؤقف اپنایا کہ جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایک خاتون جج کو ان کے خلاف ہراسگی کی شکایت سننے سے ہٹا دیا ہے۔
آج جسٹس انعام امین منہاس کے نام لکھے گئے خط، جس کی ایک کاپی ڈان نیوز کو دستیاب ہے، میں ایمان مزاری نے کہا کہ قانون کے تحت ’ مجاز اتھارٹی پر لازم ہے کہ وہ شکایت وصول ہونے کے تین دن کے اندر ملزم کو الزامات سے آگاہ کرے اور ملزم پر لازم ہے کہ الزامات سے آگاہ ہونے کے سات دن کے اندر اپنا تحریری جواب جمع کرائے۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’ مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ میری شکایت پر کوئی کارروائی ہوئی یا نہیں کیونکہ اس سلسلے میں مجھے مجاز اتھارٹی نے کوئی اطلاع نہیں دی۔‘
ایمان مزاری نے اس معاملے میں ’ واضح ہنگامی نوعیت‘ پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’میں درخواست کرتی ہوں کہ میری شکایات کا ازالہ جلد از جلد کیا جائے۔‘
انہوں نے جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو ہٹانے اور جسٹس انعام امین منہاس کو ان کی جگہ مقرر کرنے کے معاملے کو بھی اُٹھایا اور کہا کہ یہ اقدام ’ غیر قانونی‘ ہے کیونکہ ’ملزم اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے مجاز اتھارٹی کو تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی میری شکایت میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔‘
انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر کی جانب سے شکایت کے بعد ’مسلسل انتقامی اقدامات‘ کا بھی ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ ’جیسا کہ آپ بخوبی آگاہ ہوں گے، ایسے انتقامی اقدامات 2010 کے قانون کے تحت سختی سے ممنوع ہیں، اور مجاز اتھارٹی کی حیثیت سے آپ پر لازم ہے کہ آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مجھے ایسے اقدامات کا نشانہ نہ بنایا جائے’۔
خط کے مطابق 16 ستمبر کو ایمان مزاری کی مؤکلہ ماہ رنگ بلوچ کا کیس جسٹس سرفراز ڈوگر کے سامنے مقرر تھا اور ایمان مزاری کے وکیل نے زیر التوا شکایت کے باعث کیس کو کسی اور بینچ میں منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔
ایمان مزاری نے لکھا کہ ’ملزم نے کیس منتقل کرنے سے انکار کر دیا اور مجھے اپنے سامنے پیش ہونے پر مجبور کیا، حالانکہ قانون کے تحت کسی بھی خاتون کو اپنے مبینہ ہراساں کرنے والے کے سامنے پیش ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا’۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ ’مندرجہ بالا حقائق اور حالات واضح طور پر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملزم نے میری شکایت کی انکوائری سے بچنے کے لیے اپنے اختیارات کا کھلم کھلا ناجائز استعمال کیا ہے۔‘
ایمان مزاری نے مزید کہا کہ واقعے کے دن کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کی ان کی درخواست ’ ابھی تک جواب طلب‘ ہے اور انہوں نے ’ اس اہم ثبوت کو محفوظ کرنے کے لیے فوری مداخلت‘ کا مطالبہ کیا۔
ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو اس ’ ناخوشگوار واقعے‘ کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست بھی دی تھی۔
درخواست میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’میں آپ کو آج یہ درخواست لکھ رہی ہوں کہ معزز چیف جسٹس کے کورٹ روم نمبر 1 کی 11 ستمبر 2025 صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جائے کیونکہ میرے ساتھ ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ اس وقت کی ریکارڈ شدہ گفتگو محفوظ کی جائے۔’
انہوں نے مزید کہا تھا کہ’ میں یہ بھی درخواست کرتی ہوں کہ مذکورہ تاریخ اور وقت کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی ایک کاپی اُس یو ایس بی پر فراہم کی جائے جو میں نے اس درخواست کے ساتھ منسلک کی ہے۔‘