بینکوں سے سستا قرضہ لیا، 6 برسوں میں پاور سیکٹر کا گردشی قرضی ختم کریں گے، وزیر توانائی
وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ پاکستان کے لیے وبالِ جان بن گیا، جسے ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نےکہا کہ پاور سیکٹر کا ایک ہزار 225 ارب روپےکا گردشی قرضہ بینکوں سے سستا قرضہ حاصل کر کے آئندہ 6 برسوں میں ختم کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں مہنگے قرضے لیے گیے، تاہم موجودہ حکومت نے بینکوں کے ساتھ کامیاب مذکرات کر کے ساڑھے 3 سے ساڑھے 5 فیصد کم سود کے ساتھ سستا قرضہ حاصل کیا، ہم نے اس فیصلے کا بوجھ عوام پر پڑنے نہیں دیا، گردشی قرضہ ختم نہیں ہو رہا تھا، اب اسے ختم کر کے رہیں گے۔
وزیر توانائی کا مزید کہنا تھا کہ اگر آئندہ 6 برسوں میں بجلی کا استعمال زیادہ ہوا تو ممکن ہے کہ بقیہ گردشی قرضہ مقررہ مدت سے قبل ہی ختم ہو جائے۔
انہوں نے بتایا کہ انرجی سیکٹر پر مجموعی طور پر 2400 ارب روپے کا گردشی قرضہ تھا، جس میں سے ہم نے 800 ارب کا قرض بہترین پرفارمنس کے ساتھ بغیر قرضہ لیا۔
اویس لغاری نے کہا کہ چوری اور بہترین ریکوری کی مد میں ہم نے 242 ارب روپے کا قرضہ ختم کیا، سود پر انٹرسٹ ریٹ کم ہونے سے 175 ارب روپے، مائیکرو اکنامک کنڈیشنز میں بہتری کے باعث 363 ارب روپے، آئی پی پیز کے ساتھ ازسر نو کانٹریکٹس، لیٹ پیمنٹ چارجز ختم کرنے کے باعث مجموعی طور پر 816 روپے کا گردشی قرضہ کم کیا گیا، جس سے کُل گردشی قرضہ 2 ہزار 393 ارب سے کم ہو کر 1614 ارب پر آگیا ہے۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ پاور سیکٹر پر سال 2018 میں گردشی قرضہ تقریبا ایک ہزار 100 ارب رورپے تھا، 2022 میں یہ بڑھ کر تقریبا 2 ہزار 280 ارب روپے تک پہنچ گیا، گزشتہ برس جب ہم نے حکومت سنبھالی تو گردشی قرضے کا کل حجم 2 ہزار 400 ارب کے قریب تھا، ہم نے ایک سال میں بغیر کوئی نیا قرض لیے اور عوام پر بوجھ بڑھائے تقریبا 800 ارب روپے کی ریکارڈ کمی کی۔
اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بھر پور منصوبہ بندی کے تحت لائی گئی اس اسکیم سے گردشی قرضے کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہو جائےگا، پاکستان کی اکنامی، انرجی سیکٹر پر انحصار کرتی ہے، معیشت کی بہتری کے لیے پاور سکٹر میں اس سے قبل ایسا اقدام نہیں اٹھایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 25 ستمبر کو ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حکومت نے توانائی کے شعبے کے گردشی قرضوں کے خاتمے اور نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو ادائیگی کے لیے 18 بینکوں کے ساتھ تقریباً 12 کھرب 25 ارب روپے کے قرضوں کے معاہدوں پر دستخط کردیے تھے، یہ ادائیگیاں صارفین سے اگلے 6 برس تک فی یونٹ 3.23 روپے سرچارج وصول کر کے پوری کی جائیں گی۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اس معاہدے پر وزیراعظم آفس میں دستخط ہوئے، تقریب میں وزیر اعظم نے نیویارک سے ورچوئلی شرکت کی۔
معاہدے کے تحت حکومت کو 30 دن کے اندر بینکوں سے فنڈز کی فراہمی کی درخواست کرنا ہوگی تاکہ وقت پر استعمال ممکن ہو ورنہ جرمانے لگ سکتے ہیں۔ درخواست دینے کے بعد منظور شدہ رقم نکلوانے کے لیے حکومت کے پاس 3 ماہ ہوں گے۔