پاکستان میں شدید سیلاب کے باوجود باسمتی چاول کی فصل میں استحکام برقرار
دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں شدید سیلاب کے باعث پاکستان کی باسمتی کی فصل کو تباہ کن نقصان پہنچنے کی پیشگوئی پر مبنی ابتدائی رپورٹس زیادہ مبالغہ آمیز ثابت ہوئی ہیں۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ عالمی میڈیا نے اگست کے آخر میں قیاس آرائی کی تھی کہ باسمتی چاول کی فصل کا نقصان 60 فیصد تک ہوسکتا ہے، مگر حالیہ سرکاری تخمینوں کے مطابق اثرات اس سے کہیں کم ہیں۔
رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) نے ان ابتدائی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے عالمی خریداروں کو یقین دلایا ہے کہ ملک کی باسمتی برآمدی صلاحیت برقرار ہے۔
پنجاب کے محکمہ زراعت کے مطابق صوبہ پاکستان کی باسمتی پیداوار کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے، جہاں تقریباً ڈھائی لاکھ سے 2 لاکھ 70 ہزار ہیکٹر دھان کے کھیت سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، یہ رقبہ صوبے کے کل دھان کے کاشت شدہ علاقے کا صرف 10.1 فیصد بنتا ہے، جو خریف 2025 میں 27 لاکھ ہیکٹر پر محیط ہے۔
یہ تخمینہ خوراک و زراعت کی تنظیم (ایف اے او) اور سپارکو کے سیٹلائٹ ڈیٹا سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جن کے مطابق بھی صرف 10 فیصد سے کم دھان کی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔
لچکدار پیداوار
ایک اہم پہلو جو مجموعی نقصان کو کم کر رہا ہے وہ اس سال پاکستان میں باسمتی کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہے، زیر کاشت رقبہ 20.2 لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر 23.8 لاکھ ہیکٹر ہو گیا ہے۔
اس توسیع کے ساتھ ساتھ سیلاب کی محدود نوعیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مجموعی پیداوار ابتدائی اندازوں سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
اگرچہ راوی ڈیلٹا میں 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک تک کے سیلابی ریلے آئے جن سے کچھ نقصان ہوا، مگر بروقت انتباہات اور پاکستان کی زیریں سندھ طاس میں جغرافیائی پوزیشن کے باعث بڑے پیمانے پر اثرات سے بچاؤ ممکن ہوا۔
سرکاری اندازوں کے مطابق سیلاب نے صرف 10 فیصد کاشت شدہ رقبہ متاثر کیا ہے۔
ایک قابلِ ذکر مشاہدہ عارف والا کے قریب ستلج بیلٹ میں ہوا، جہاں ایک ہفتے تک زیرِ آب رہنے والی زمین سے حاصل شدہ دھان نے اوسط پیداوار کا تقریباً 50 فیصد دیا، اگرچہ ان متاثرہ علاقوں میں چاول کے دانے کے معیار پر فرق پڑا، لیکن یہ باسمتی فصل کی لچک کو ظاہر کرتا ہے۔
بھارت کو زیادہ نقصان
دوسری طرف بھارت کو زیادہ مشکل صورت حال کا سامنا ہے, بھارتی پنجاب میں تقریباً 2 لاکھ ہیکٹر یا 28 فیصد رقبہ سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔
چاول کے ماہر حمید ملک کے مطابق یہ نقصان اس وقت ہوا جب ابتدائی پختگی والی باسمتی اقسام کٹائی کے قریب تھیں، اس کے علاوہ فصل کی نشوونما کے اہم مرحلے پر نائٹروجن کھاد کی کمی نے بھارتی باسمتی کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔
بھارتی پنجاب میں باسمتی کی کاشت گزشتہ سال کے مقابلے میں پہلے ہی 24 فیصد کم ہے، کیونکہ بہت سے کسانوں نے سرکاری ضمانتی خریداری والے عام دھان کو ترجیح دی۔
برآمدی اہداف پورے کرنے کے لیے بھارتی برآمد کنندگان اب ہریانہ، مغربی یوپی اور حتیٰ کہ غیر جغرافیائی شناخت (جی آئی) والے مدھیا پردیش کا رخ کر رہے ہیں۔
برآمدی امکانات
ابتدائی میڈیا رپورٹس سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ کے باوجود پاکستان کی باسمتی فصل اس وقت ایک اہم مرحلے یعنی پولینیشن پر ہے اور سازگار موسمی حالات پیداوار کو مستحکم کر رہے ہیں۔
پاکستان میں مون سون اور مغربی بارشوں کے دوہرے نظام نے ستمبر میں نمی فراہم کی ہے، جب مون سون کی بارشیں پیچھے ہٹ رہی تھیں۔
اگرچہ عالمی درآمد کنندگان نے ابتدائی خبروں پر قیمتیں بڑھا دی تھیں، لیکن پاکستان میں کم نقصان کے نئے تخمینے عالمی منڈی کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
باسمتی کی فصل میں زیادہ لچک دکھانے کے بعد ریپ کو توقع ہے کہ پاکستان اپنے برآمدی وعدے پورے کرے گا اور بھارت کی پیداوار میں آنے والے نسبتی مسائل سے فائدہ اٹھا سکے گا۔