پاکستان

بورڈ آف انویسٹمنٹ نے 5 سالہ ریگولیٹری گورننس اسٹریٹجی کو حتمی شکل دے دی

اصلاحات کا اہم حصہ ضلع کی سطح پر کاروباری رجسٹریوں کو ختم کرکے مرکزی نیشنل بزنس رجسٹری میں منتقل کرنا ہے، وزیر سرمایہ کاری کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے

بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) نے 5 سالہ ریگولیٹری گورننس اسٹریٹجی (30-2025) کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے قانونی اور ریگولیٹری ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، جس میں ایک مرکزی نیشنل بزنس رجسٹری کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ بی او آئی کے ریگولیٹری ریفارم پیکیج کے تیسرے سہ ماہی جائزے کے دوران کیا گیا، جس کی صدارت وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری ریفارمز کے اجلاس میں کی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق اس اسٹریٹجی کا مقصد کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہے جس کے لیے تعمیل کے اخراجات میں کمی، شفافیت میں اضافہ، اور کاروباری اداروں کے لیے منظوری کے عمل کو تیز تر بنانا شامل ہے۔

منصوبے میں طریقہ کار کو ڈیجیٹلائز اور سادہ بنانے کے اقدامات شامل ہیں، جن میں کم خطرے والی کمپنیوں کے لیے آن لائن آن بورڈنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ ’آسان بزنس بینک اکاؤنٹ‘ کا اجرا شامل ہے۔

اصلاحات کا ایک اہم حصہ ضلع کی سطح پر موجود بکھری ہوئی کاروباری رجسٹریوں کو ختم کرکے ایک مرکزی نیشنل بزنس رجسٹری میں منتقل کرنا ہے، جسے ایس ای سی پی (سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان) کے زیرِ انتظام رکھا جائے گا۔

یہ تبدیلی رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنائے گی، دہرے اندراج کو ختم کرے گی، اور کاروباری اداروں کو کم مراحل میں قومی سطح پر قانونی حیثیت فراہم کرے گی۔

پیکیج میں 1932 کے پارٹنرشپ ایکٹ کو منسوخ کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک نئے خطرے کی بنیاد پر تیار کردہ سیکیورٹی کلیئرنس فریم ورک متعارف کرانے کی تجویز بھی شامل ہے۔