پاکستان

جی ایچ کیو حملہ کیس حتمی مرحلے میں داخل، آخری 3 گواہان انسداد دہشتگردی کورٹ میں طلب

آج سماعت کے دوران استغاثہ کے 3 گواہان کی شہادت قلمبند، عدالت نے عمران خان کی جانب سے دائر ٹرائل روکنے سے متعلق دائر درخواست خارج کر دی۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) میں زیر سماعت جی ایچ کیو حملہ کیس حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا، آئندہ سماعت پر مقدمے کے آخری 3 گواہان کو طلب کرلیا گیا ہے۔

ہفتے کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سماعت کے دوران استغاثہ کے 3 گواہان کی شہادت قلمبند کرلی۔

عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی جانب سے دائر کی گئی ٹرائل روکنے سے متعلق دائر درخواست خارج کر دی۔

اے ٹی سی کے جج نے 8 گواہان کو دوبارہ طلب کرنے سے متعلق درخواست پر پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کر دیا۔

سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی، سماعت کے دوران ڈی ایس پی (ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس) اکبر عباس، انسپکٹر عصمت کمال، انسپکٹر تہذیب الحسن کے بیانات قلم بند کیے گئے۔

گواہان نے گرفتار ملزمان سے برآمد ڈنڈے، جھنڈے، پولیس ہیلمٹ، لائٹڑ، فوجی مجسمے کے ٹکڑے عدالت میں پیش کر دیے۔

گواہ انسپکٹر عصمت کمال نے چکری انٹرچینج پر پی ٹی آئی کی قیادت کی میٹنگ سے متعلق شواہد عدالت میں پیش کیے، مقدمے میں مجموعی طور 44گواہان کے بیان ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر مقدمے کے آخری 3 گواہان کو طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیے، آئندہ سماعت پر ڈی ایس پی مرزا جاوید، انسپکٹر ناظم شاہ اور انسپکٹر یعقوب شاہ کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

کیس کی مزید سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

پس منظر

واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔

اس دوران فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔

اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا، جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔