خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ابہام پیدا کر رہی ہے، وزیرِ مملکت برائے داخلہ
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نےکہا ہے کہ صوبائی حکومت کو جلسے اور جلوس کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن انہیں دہشت گردی کے بارے میں بھی دو ٹوک بیانیہ اپنانا اور فورسز کے پیچھے کھڑا ہونا ہوگا، نہ کہ ہر روز اس حوالے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کریں۔
فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومتی کہتی ہے، افغانستان سے بات کریں ہم ان سے بات کر رہے ہیں، لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کی ٹولیوں میں جہاں پہلے 30 سے 50 فیصد افغان شہری شامل ہوتے تھے اب ان کی تعداد بڑھ کر 70 سے 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
وہ دہشتگرد کہاں سے آتے ہیں، کون انہیں یہاں بھیجتا ہے، صوبائی حکومت اس بارے میں بات کیوں نہیں کرتی، خیبرپختونخوا حکومت کہتی ہے، بات چیت ہونے چاہیے، کس سے بات کریں ؟ اُن سے جو ہمارے سپاہیوں، بچوں کو شہید کرتے اور بازاروں میں دھماکے کرتے ہیں، گولی سے بات کرنے والوں کے ساتھ گولی سے ہی بات ہو گی، سمجھ نہیں آتا کہ اِن کا دہشت گردوں کے لیے اتنا نرم رویہ کیوں ہے۔
وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ یہ تمام تر کوششیں خوارج کو آزاد اور محفوظ خیبرپختونخوا فراہم کرنے کی کوشش ہے، وزیراعلی خیبرپختونخوا جانتے ہیں اُن کی زمہ داری کیا ہے اور انہیں اپنی زمہ داری نبھانے پڑے گی، علی امین گنڈا پور کو سی ٹی ڈی، فرانزک لیب اور سیف سٹی کے منصوبے بنانے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ 13 سال سے ان کی صوبے میں حکومت ہے، خیبرپختونخوا کو 600 ارب روپے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے ملے تھے، دہشتگردوں کے خلاف لڑنے والی فورسز کے لیے نہ تو کوئی سہولتیں ہیں اور نہ ہی ہتھیار، وہ فنڈز کہاں گئے ؟
طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا ایک بہت بڑا مسئلہ دہشتگردی ہے، ہماری فورسز پاکستان کو محفوظ بنانے کے لیے شہادتیں دے رہی ہیں، کیا سیاسی جماعتوں نے اپنے کردار ادا نہیں کرنا۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر سب کا اتفاق ہوا تھا، مگر سوال یہ ہے کہ اس پر عمل کیوں نہیں ہوتا، اگر کہیں کمی ہے تو سیاسی فورسز اور صوبائی حکومتوں کی کمی کوتاہیوں کی وجہ سے ہے، خوارج اس جنگ لو لمبا کرنے اور ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں ہماری فورسز بغیر سپورٹ، بہادری کے ساتھ لڑ رہی ہیں، میجر عدنان جیسا کون ہے؟ جو اپنے سپائی کو بچانے کے لیے اس کے اوپر لیٹ جائے، جوان افسران جانیں دے رہے ہیں، سیاست دان، صوبائی حکومت کہاں ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت جلسے کر کے ڈیل لینے کی کوشش کر رہے ہے، وہ نہیں ملے گی، جہاں کے رہنما اور حکمران بھتہ دے کر رہ رہے ہوں، وہ صوبے اور ملک کو کیا محفوظ بنائیں گے۔
آپ جلسہ آپ کر لیں، کیا آپ اس میں اعلان کریں گے، کیا آپ کہیں گے ہم کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ان کا خاتمہ کریں گے ؟
طلال چوہدری کا کہنا تھا جلسہ وفاق کو للکارنے کے لیے نہیں بلکہ دہشت گردوں کو للکارنے کے لیے کریں، جو دہشت گردوں کے ساتھ کھڑا ہوگا وہ دہشت گرد ہی سمجا جائے گا، یہ ریڈ لائن ہے، سیاست پاکستان سے شروع ہوتی ہے، دہشت گردوں کے لیے نرم رویہ یا دہشست گردوں کے لیے آزاد اور محفوظ خیبرپختونخوا نہیں ہو سکتا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ افغانستان کی حکومت کی سرپرستی میں خوارج بارڈر کراس کرتے ہیں، گرفتار افغان دہشتگردوں کے شواہد عبوری حکومت اور عالمی دنیا کے ساتھ شیئر کیے، ہمیں امید ہے پڑوسی ملک کی حکومت اپنا فرض نبھائے گی اور اپنی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی۔
کرک میں خوارج کی ہلاکت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ تھانہ شاہ سلیم کی حدود میں پولیس اور دیگر فورسز نے مشترکہ آپریشن میں 17 خوارج کو ہلاک اور 6 سے زائد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ انتہائی کامیابی کے ساتھ مکمل کیے گئے آپریشن میں ہمارے صرف 3 جوان معمولی زخمی ہوئے، انہوں نے کہا کہ جب وفاقی اور صوبائی ادارے ملکر لڑتے ہیں تو پھر اس طرح کے نتائج آتے ہیں، کرک میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے، ابھی ختم نہیں ہوا۔
سربراہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کا بیانیہ، بھارت اور اسرائیل کا بیانیہ، ایک جیسا ہے، عمران خان کے ٹوئٹ اداروں اور افواج کے سربراہ کے خلاف ہوتے ہیں۔
سربراہ پاکستان تحریک انصاف نے خوارج کے لیے نرم رویہ اپنایا ہوا ہے، عمران خان ہمارے شہیدوں کے لیے ایک ٹوئٹ نہیں کرتے، خوراج ہماری فورسز پر ڈرون حملے کرتے ہیں، عمران خان کہتے ہیں ان خوارج کے خلاف ڈورن استعمال نہ کریں، بانی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ کون چلاتا ہے، اس کی وضاحت بھی ضروری ہے۔
سفارتی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے طلال چوہدری بولے کہ پاکستان کو ہر لحاظ سے سفارتی کامیابیاں ملی ہیں، اس میں بنیادی کردار وزیراعظم شہباز شریف کی محنت کا ہے، ہماری حکومت سے قبل چین، عرب ممالک، یورپ، امریکا سب پاکستان سے ناراض تھے، دوست اسلامی ملک کے ساتھ جو تعلقات خراب کیے گئے تھے، انہیں ہم نے آتے ہی بحال کیا۔
دوست ممالک کے ساتھ کاروباری، دفاعی تعلقات کو بہتر بنایا گیا، فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں آپ نے پاک-امریکا سفارتی تعلقات کی جھلکیاں دیکھی ہوں گی۔
سعودی عرب کے ساتھ ایک شاندار دفاعی معاہدہ کیا گیا، تاہم ان تمام تر کامیابیوں کا پھل اس وقت تک عوام تک نہیں پہنچ سکتا جب تک صوبائی حکومتیں وفاق کا ساتھ نہ دیں، سیاسی حکومتیں، سیاسی جماعتیں جب تک مل کر کام نہیں کریں گی، عالمی سطح پر ملنے والی کامیابیوں کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچیں گے۔
پاک بھارت ایشیا کپ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کھیل میں ہار جیت کو ، کھیل تک رہنے دینا چاہیے، بھارت کے خلاف جیت کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ شائقین کرکٹ اپنی ٹیم پر بلاوجہ تنقید نہ کریں بلکہ انہیں سپورٹ کریں، مجھے امید ہے کل کا میچ ویسے ہی جیتیں گے جیسے ہم بھارت سے جنگ جیتے تھے۔