شانگلہ: 12 سالہ شادی شدہ بچی نے زہر کھاکر زندگی کا خاتمہ کرلیا
خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے دمرائی میں 12 سالہ شادی شدہ بچی سلیمہ بیب نے زہر کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا، متوفیہ کی شادی 6 ماہ قبل اپنے 10 سالہ کزن انعام اللہ سے ہوئی تھی۔
اولندر تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) علی حسین نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ واقعہ دمرائی میں اولندر تھانے کی حدود میں پیش آیا جہاں 12 سالہ شادی شدہ بچی نے مبینہ طور پر زہریلا مادہ کھایا جس سے اس کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ اپنی جان گنوا بیٹھی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس وہاں پہنچی لیکن متوفیہ کی والدہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس کے حوالے کرنے پر راضی نہیں تھیں، تاہم پولیس نے لاش کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال الپوری منتقل کرواکر پوسٹ مارٹم کرایا۔
ایس ایچ او علی حسین کا کہنا تھا کہ موت کی اصل وجہ میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہو سکے گی کہ آیا یہ خودکشی تھی یا بچی کو منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا ہے۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ یہ بات تصدیق شدہ ہے کہ دونوں میاں بیوی نابالغ تھے، متوفیہ سلیمہ بیب کی عمر 12 سال اور اس کے شوہر انعام اللہ کی عمر صرف 10 سال تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ شادی غیر قانونی تھی اور بچی کی موت بھی مشکوک ہے۔ تاہم موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے دفعہ 176 ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کے تحت تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ایس ایچ او نے کہا کہ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر سے مشاورت کے بعد نابالغ بچوں کا نکاح پڑھانے والے مولوی (نکاح رجسٹرار) اور نکاح کے موقع پر موجود تمام افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بچی اور لڑکے کے والدین کو بھی گرفتار کیا جائے گا اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔