دنیا

اسرائیل اور حماس غزہ میں جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدے کے ’ بہت قریب’ ہیں، وائٹ ہاؤس

ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی آج وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوگی جس میں امریکی صدر کے امن منصوبے پر بات چیت ہوگی

امریکا نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کے معاہدے کے ’ بہت قریب’ ہیں، آج وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت ہوگی

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس غزہ میں جنگ ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچنے کے ’ بہت قریب’ ہیں۔

کیرولین لیوٹ نے ’ فاکس اینڈ فرینڈز’ پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ 21 نکاتی امن منصوبے پر بات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ قطر کی قیادت سے بھی بات کریں گے جو حماس کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ دونوں فریقوں کے لیے ایک معقول معاہدہ طے کرنے کے لیے دونوں کو کچھ نہ کچھ قربانی دینی ہوگی اور ممکن ہے میز سے تھوڑے ناخوش ہو کر اٹھیں، لیکن بالآخر یہی اس تنازعے کو ختم کرنے کا راستہ ہے۔’

ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی آج وائٹ ہاؤس میں ملاقات

دریں اثنا برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اس اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو آج وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

یہ ملاقات نیتن یاہو کی جمعے کو اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر کے بعد ہو رہی ہے، جس میں انہوں نے متعدد مغربی ممالک کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

واضح رہے کہ درجنوں حکام اور سفارت کاروں نے نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ کیا تھا اور ہال سے باہر چلے گئے تھے، جس کے باعث کانفرنس ہال کے بڑے حصے خالی رہ گئے تھے۔

آج کا وائٹ ہاؤس کا یہ دورہ اس سال کے دوران نیتن یاہو کا چوتھا دورہ ہوگا، کیونکہ اسرائیل کو غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

ٹرمپ نے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے جمعے کو کہا تھا کہ وہ نیتن یاہو کو اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کو ضم کرنے کی اجازت ’ نہیں دیں گے’ ، لیکن غزہ کی جنگ پر جنگ بندی کے معاہدے کے ’ کافی قریب’ ہونے کی بھی تصدیق کی تھی۔

ٹرمپ کے امن منصوبے میں کیا شامل ہے؟

بی بی سی کے مطابق امریکی صدر سے توقع ہے کہ وہ آج وائٹ ہاؤس میں بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کے دوران اسرائیل-غزہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نیا امن منصوبہ پیش کریں گے۔

تاہم نیتن یاہو نے اتوار کو کہا تھا کہ ابھی کوئی معاہدہ ’ حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا’ ، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ انہیں باضابطہ طور پر یہ تجویز نہیں بھیجی گئی۔

امریکی، بیرونی اور اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والے منصوبے کی لیک شدہ کاپیوں کے مطابق اس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ معاہدہ طے پانے کے 48 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا، ان کی واپسی کے بعد اسرائیل عمر قید کی سزا کاٹنے والے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے گا۔

امن کے لیے آمادہ ہونے والے حماس کے ارکان کو عام معافی اور غزہ سے محفوظ راستہ دیا جائے گا، اور اس گروپ کا مستقبل میں علاقے میں کوئی کردار نہیں ہوگا، نیز حماس کے تمام عسکری ڈھانچے تباہ کیے جائیں گے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) آہستہ آہستہ غزہ سے انخلا کریں گی اور غزہ کو ایک عبوری حکومت کے ذریعے چلایا جائے گا۔

یہ منصوبہ ٹرمپ انتظامیہ کے پچھلے مؤقف میں ایک بڑا تغیر دکھاتا ہے، جو اس سے قبل غزہ کی پوری آبادی (2.1 ملین) کو منتقل کرنے اور غزہ کو امریکی ملکیتی ’ ریویرا’ میں بدلنے کی حامی تھی۔

تازہ ترین تجویز فلسطینیوں کو غزہ میں ہی رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔

یہ منصوبہ فلسطینیوں کی مستقبل کی ریاست کے لیے خواہشات کو بھی تسلیم کرتا ہے اور فلسطینی اتھارٹی کے لیے علاقے میں مستقبل کے کردار کی گنجائش رکھتا ہے، بشرطیکہ وہ اصلاحات کرے۔