’ساس اور داماد‘ کے جنسی تعلق پر بنی متنازع انڈونیشین فلم تیزی سے مقبول
ساس اور داماد کے درمیان جنسی تعلق کی کہانی پر بنائی گئی متنازع انڈونیشین فلم ’نورما‘ جنوب مشرقی ایشیا سمیت دیگر اسلامی ممالک میں نہایت مقبول ہوگئی۔
’نورما‘ کو ابتدائی طور پرمارچ میں سینماؤں اور اگست 2025 میں نیٹ فلیکس پر ریلیز کیا گیا تھا، جس کے بعد فلم آہستہ آہستہ اپنے ملک کے علاوہ دیگر ممالک سنگاپور، ملائیشیا اور دوسرے پڑوسی ممالک میں بھی وائرل ہونے لگی۔
برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی رپورٹ کے مطابق فلم کے زیادہ وائرل ہونے کا ایک سبب اس کی اصل کہانی ہے۔
فلم کی کہانی ایک ٹک ٹاک ریل سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہے جو کہ نورما رسما نامی انڈونیشین خاتون نے 2022 میں شیئر کی تھی۔
مذکورہ خاتون نے ٹک ٹاک ویڈیو کے ذریعے اپنی والدہ اور شوہر کے درمیان جنسی تعلقات کا انکشاف کیا تھا، جس کے بعد ان کی ویڈیو وائرل ہوئی اور وہاں کی پولیس حرکت میں آئی۔
خاتون کی ٹک ٹاک ویڈیو کے بعد پولیس نے ان کی والدہ اور شوہر کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا تھا، جہاں ان پر جرم ثابت ہونے پر دونوں کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔
خاتون کی جانب سے والدہ اور شوہر کے درمیان جنسی تعلقات کا انکشاف کیے جانے کے بعد بنائی گئی ٹک ٹاک ویڈیو سے متاثر ہوکر بنائی گئی فلم میں جنسی مناظر کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح نورما رسما اپنے شوہر اور والدہ کے درمیان جنسی تعلقات کو دیکھتیں اور انہیں بے نقاب کرتی ہیں۔
انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک میں اس طرح کی کہانی کو فلم میں پیش کیے جانے پر بھی فلم کو مقبولیت حاصل ہوئی۔
معیوب سمجھے جانے والے موضوع پر فلم بنانے کی وجہ سے ’نورما‘ کو مقبولیت حاصل ہو رہی ہے اور فلم انڈونیشیا کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن چکی ہے۔
مذکورہ فلم سے قبل بھی ٹک ٹاک ویڈیوز، فیس بک پوسٹس اور ایکس پوسٹس پر انڈونیشیا میں فلمی بنائی جا چکی ہیں اور انہوں نے کافی مقبولیت بھی حاصل کی ہے، تاہم ’نورما‘ نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔